المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعد مولى أبي بكر رضي الله عنه " كان ينزل البصرة " باب: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، بصرہ میں رہتے تھے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ سَعْدٌ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرَةٍ، وَمَعَنَا شَيْءٌ مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ لِي صَفْوَانُ: أَطْعِمْنِي هَذَا التَّمْرَ، فَقُلْتُ: إِنْهُ تَمْرٌ قَلِيلٌ، وَلَسْتُ آمَنُ أَنْ يَدْعُوَ بِهِ، فَإِذَا نَزَلُوا أَكَلْتَ مَعَهُمْ، فَقَالَ: أَطْعِمْنِي فَقَدْ أَهْلَكَنِي الْجُوعُ، وَذَكَرَ مَا بَلَغَ مِنْهُ، فَأَبَيْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَعَرْقَبَ الرَّاحِلَةَ الَّتِي عَلَيْهَا التَّمْرُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَّسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «قُولُوا لِصَفْوَانَ فَلْيَذْهَبْ» قَالَ: فَلَمْ يَبِتْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ يَطُوفُ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَيْنَ أَذْهَبُ؟ أَذْهَبُ إِلَى الْكُفْرِ؟ فَأَتَى عَلِيٌّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: «قُولُوا لِصَفْوَانَ فَلْيَلْتَحِقْ»سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور ہمارے پاس کچھ کھجوریں تھیں۔ صفوان نے مجھ سے کہا: مجھے یہ کھجوریں کھلاؤ۔ میں نے کہا: یہ کھجوریں تھوڑی ہیں، اور مجھے خدشہ ہے کہ باقی لوگ اس کا مطالبہ کریں گے، جب لوگ پڑاؤ کریں گے تو تم ان کے ساتھ کھا لینا۔ اس نے کہا: مجھے کھلاؤ، بھوک نے مجھے تباہ کر دیا ہے، اور اس نے اپنی جو حالت ہو گئی تھی وہ بتائی، لیکن میں نے اسے انکار کر دیا، تو اس نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں جس پر کھجوریں لدی تھیں۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”صفوان سے کہو کہ چلا جائے۔“ راوی کہتے ہیں: اس رات وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے پاس گھومتا رہا اور رات نہ گزار سکا، پھر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں کہاں جاؤں؟ کیا کفر کی طرف جاؤں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس گئے اور آپ ﷺ کو یہ بات بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”صفوان سے کہو کہ شامل ہو جائے۔“