حدیث نمبر: 5475
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الرِّيَاحِيُّ، ثنا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُرَاهُ قَالَ: فِي سَفَرٍ -، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ لِي: «يَا سَعْدُ اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْعَنْزِ فَاحْلِبْهَا» ، وعَهْدِي بِذَلِكَ الْمَكَانِ وَمَا فِيهِ عَنْزٌ، فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا عَنْزٌ حَافِلٌ، فَحَلَبْتُهَا، قَالَ: لَا أَدْرِي كَمْ مِنْ مَرَّةٍ، ثُمَّ وَكَّلْتُ بِهَا إِنْسَانًا، وَشُغِلْتُ بَالرِّحْلَةِ، فَذَهَبَتِ الْعَنْزُ، فَاسْتَبْطَأَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَيْ سَعْدُ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الرِّحْلَةَ شَغَلَتْنَا، فَذَهَبَتِ الْعَنْزُ، فَقَالَ: «إِنَّ الْعَنْزَ ذَهَبَ بِهَا رَبُّهَا»
ترجمہ

…سعد، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے — میرا خیال ہے کہ کسی سفر میں تھے — ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے سعد! اس بکری کے پاس جاؤ اور اسے دوہ لاؤ۔“ حالانکہ مجھے یاد تھا کہ اس جگہ کوئی بکری نہ تھی۔ میں وہاں گیا تو ایک بھرپور دودھ والی بکری موجود تھی، میں نے اسے دوہا — مجھے یاد نہیں کتنی بار — پھر میں نے اسے کسی آدمی کے سپرد کر دیا اور کوچ کی تیاری میں مصروف ہو گیا، اتنے میں وہ بکری چلی گئی۔ رسول اللہ ﷺ کو میرے آنے میں تاخیر محسوس ہوئی تو فرمایا: ”اے سعد!“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کوچ کی تیاری نے ہمیں مصروف کر دیا اور بکری چلی گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بکری کو اس کا مالک لے گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5475
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 55، حدیث 5496