❮
❯
حدیث نمبر: 5285
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ وَفْدَ هَوَازِنَ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ، وَقَدْ أَسْلَمُوا، قَالُوا: إِنَّا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ وَقَدْ أَصَابَنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ، فَامْنُنْ عَلَيْنَا مَنَّ اللهُ عَلَيْكَ، وَقَامَ رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ، ثُمَّ أَحَدُ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ يُقَالُ لَهُ زُهَيْرٌ يُكْنَى بِأَبِي صُرَدٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ نِسَاؤُنَا عَمَّاتُكَ وخَالَاتُكَ وحَوَاضِنُكَ اللَّاتِي كَفَلْنَكَ، وَلَوْ أَنَّا لَحِقْنَا الْحَارِثَ بْنَ أَبِي شِمْرٍ وَالنُّعْمَانَ بْنَ الْمُنْذِرِ، ثُمَّ نَزَلَ بِنَا مِنْهُ الَّذِي أَنْزَلْتَ بِنَا لَرَجَوْنَا عَطْفَهُ وَعَائِدَتَهُ عَلَيْنَا، وَأَنْتَ خَيْرُ الْمَكْفُولِينَ، ثُمَّ أَنْشَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعَرًا قَالَهُ وَذَكَرَ فِيهِ قَرَابَتَهُمْ وَمَا كَفَلُوا مِنْهُ فَقَالَ:
[البحر البسيط]
امْنُنْ عَلَيْنَا رَسُولَ اللهِ فِي كَرَمٍ ... فَإِنَّكَ الْمَرْءُ نَرْجُوهُ وَنَدَّخِرُ
امْنُنْ عَلَى بَيْضَةٍ قَدْ عَاقَهَا قَدَرٌ ... مُفَرَّقٌ شَمْلُهَا فِي دَهْرِهَا غِيَرُ
أَبْقَتْ لَنَا الْحَرْبُ هَتَّافًا عَلَى حَزَنٍ ... عَلَى قُلُوبِهِمُ الْغَمَّاءُ وَالْغُمَرُ
إِنْ لَمْ تَدَارَكْهُمْ نَعْمَاءُ تَنْشُرُهَا ... يَا أَعْظَمَ النَّاسِ حِلْمًا حِينَ يُخْتَبَرُ
امْنُنْ عَلَى نِسْوَةٍ مَنْ كُنْتَ تُرْضِعُهَا ... إِذْ فُوكَ يَمْلَأَهُ مِنْ مَحْضِهَا دُرَرُ
إِذْ كُنْتَ طِفْلًا صَغِيرًا كُنْتَ تَرْصَفُهَا ... وَإِذْ يَزِينُكَ مَا تَأْتِي وَمَا تَذَرُ
لَا تَجْعَلَنَّا كَمَنْ شَالَتْ نَعَامَتَهُ ... واسْتَبْقِ مِنْهُ فَإِنَّا مَعْشَرٌ زُهَرُ
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْنَاؤُكُمْ وَنِسَاؤُكُمْ أَحَبُّ إِلَيْكُمْ أَوْ أَمْوَالُكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَمْوَالِنَا وَنِسَائِنَا، بَلْ تَرُدُّ عَلَيْنَا أَمْوَالَنَا وَنِسَاءَنَا. فَقَالَ: «أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ فَإِذَا صَلَّيْتُ الظُّهْرَ بِالنَّاسِ فَقُومُوا فَقُولُوا إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ وَبِالْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَبْنَائِنَا وَنِسَائِنَا فَسَأُعْطِيكُمْ عِنْدَ ذَلِكَ وَأَسْأَلُ لَكُمْ» فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ الظُّهْرَ، قَامُوا فَكَلَّمُوهُ بِمَا أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ» وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: أَمَّا أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا، وَقَالَ عُيَيْنَةُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا، وَقَالَتْ بَنُو سُلَيْمٍ: أَمَّا مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ، قَالَ: يَقُولُ الْعَبَّاسُ لِبَنِي سُلَيْمٍ: وَهَّنْتُمُونِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا مَنْ تَمَسَّكَ مِنْكُمْ بِحَقِّهِ مِنْ هَذَا السَّبْيِ فَلَهُ سِتُّ قَلَائِصَ مِنْ أَوَّلِ فَيْءٍ نُصِيبُهُ» فَرَدُّوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْنَاءَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ہوازن کا وفد جعرانہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور وہ اسلام لا چکے تھے، تو انہوں نے کہا: ہم اصل اور خاندان والے ہیں، اور ہم پر ایسی مصیبت آئی ہے جو آپ سے پوشیدہ نہیں، لہٰذا آپ ہم پر احسان فرمائیے جیسے اللہ نے آپ پر احسان فرمایا ہے۔ ہوازن میں سے، پھر بنو سعد بن بکر میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا جسے زہیر کہا جاتا تھا اور جس کی کنیت ابوصُرَد تھی، اس نے کہا: یا رسول اللہ! ہماری عورتیں آپ کی پھوپھیاں، خالائیں اور آپ کی دائیاں ہیں جنہوں نے آپ کی پرورش کی۔ اور اگر ہم حارث بن ابی شمر یا نعمان بن منذر کے پاس پناہ لیتے، پھر ہمارے ساتھ وہی معاملہ ہوتا جو آپ نے ہمارے ساتھ کیا ہے، تو ہم ان کی نرمی اور مہربانی کی امید رکھتے، اور آپ تو ان سب سے بہتر ہیں جن کی پرورش کی گئی۔ پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے کہے ہوئے اشعار سنائے جن میں ان کی قرابت اور آپ ﷺ کی پرورش کا ذکر تھا: ”اے اللہ کے رسول! ہم پر اپنی سخاوت سے احسان فرمائیے، کیونکہ آپ ہی وہ ذات ہیں جس سے ہم امید رکھتے اور جسے ہم (مشکل وقت کے لیے) ذخیرہ سمجھتے ہیں۔ اس جماعت پر احسان کیجیے جسے تقدیر نے روک لیا ہے، جس کا شیرازہ زمانے کے حوادث نے بکھیر دیا ہے۔ جنگ نے ہمیں ہمیشہ کے لیے غم پر آہ و بکا کرنے والا بنا دیا ہے، ان کے دلوں پر گہرا غم اور اندوہ طاری ہے۔ اگر آپ اپنی نعمتوں سے انہیں سہارا نہ دیں گے، اے وہ شخص جو آزمائش کے وقت لوگوں میں سب سے بڑا بردبار ہے! ان عورتوں پر احسان کیجیے جن کا دودھ آپ پیا کرتے تھے، جب آپ کا منہ ان کے خالص دودھ کے موتیوں سے بھر جاتا تھا۔ جب آپ ایک چھوٹے بچے تھے تو آپ ان کے پاس رہتے تھے، اور اس وقت بھی آپ کا ہر کام اور ہر ترکِ عمل آپ کو زیب دیتا تھا۔ ہمیں اس شخص کی طرح نہ بنائیے جس کا نصیب اڑ گیا، اور اپنے اس احسان سے ہمیں باقی رکھیے، کیونکہ ہم معزز اور شریف لوگ ہیں۔“ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں اپنی اولاد اور عورتیں زیادہ عزیز ہیں یا اپنے مال؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں ہمارے مال اور ہماری عورتوں کے درمیان اختیار دیا ہے، بلکہ آپ ہمیں ہمارے مال اور ہماری عورتیں واپس کر دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو میرا اور بنو عبدالمطلب کا حصہ ہے وہ تمہارا ہے، اور جب میں لوگوں کو ظہر پڑھاؤں تو تم کھڑے ہو کر کہنا: ہم رسول اللہ ﷺ کے وسیلے سے مسلمانوں سے، اور مسلمانوں کے وسیلے سے رسول اللہ ﷺ سے اپنے بیٹوں اور عورتوں کے بارے میں سفارش چاہتے ہیں۔ تب میں اس وقت تمہیں بھی دوں گا اور تمہارے لیے دوسروں سے بھی درخواست کروں گا۔“ جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو ظہر پڑھائی تو وہ کھڑے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق آپ سے گفتگو کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو میرا اور بنو عبدالمطلب کا حصہ ہے وہ تمہارا ہے۔“ مہاجرین نے کہا: جو ہمارا حصہ ہے وہ رسول اللہ ﷺ کا ہے۔ اور انصار نے بھی ایسا ہی کہا۔ اقرع بن حابس نے کہا: یا رسول اللہ! رہی بات میری اور بنو تمیم کی، تو ہم نہیں دیں گے۔ عیینہ نے بھی ایسا ہی کہا۔ اس پر عباس بن مرداس نے کہا: میں اور بنو سلیم بھی نہیں دیں گے۔ لیکن بنو سلیم نے اس کے برعکس کہا: جو ہمارا حصہ ہے وہ رسول اللہ ﷺ کا ہے۔ عباس نے بنو سلیم سے کہا: تم نے مجھے کمزور کر دیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص ان قیدیوں میں سے اپنے حق پر قائم رہے، اسے آئندہ ملنے والے پہلے مالِ غنیمت میں سے چھ اونٹنیاں دی جائیں گی۔“ چنانچہ انہوں نے اپنی اولاد اور عورتیں رسول اللہ ﷺ کو واپس کر دیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5285
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 270، حدیث 5304