المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زهير بن صرد الجشمي " كان ينزل الشام " باب: سیدنا زہیر بن صرد جشمی رضی اللہ عنہ، شام میں رہتے تھے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ رَمَاحِيٍّ الْجُشَمِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرٍو زِيَادُ بْنُ طَارِقٍ، - وَكَانَ قَدْ لَبِثَ عَلَيْهِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ سَنَةٍ - قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَرْوَلٍ زُهَيْرَ بْنَ صُرَدٍ الْجُشَمِيَّ، يَقُولُ: لَمَّا أَسَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَوْمَ هَوَازِنَ، وَذَهَبَ يُفَرِّقُ الشُّبَّانَ وَالسَّبْيَ أَنْشَدْتُهُ هَذَا الشَّعْرَ:
[البحر البسيط]
امْنُنْ عَلَيْنَا رَسُولَ اللهِ فِي كَرَمٍ ... فَإِنَّكَ الْمَرْءُ نَرْجُوهُ ونَنَتْظِرُ
امْنُنْ عَلَى بَيْضَةٍ قَدْ عَاقَهَا قَدَرٌ ... مُفَرَّقًا شَمْلُهَا فِي دَهْرِهَا غِيَرُ
أَبْقَتْ لَنَا الدَّهْرَ هَتَّافًا عَلَى حُزُنٍ ... عَلَى قُلُوبِهِمُ الْغَمَّاءُ وَالْغُمَرُ
إِنْ لَمْ تَدَارَكْهُمُ نَعْمَاءُ تَنْشُرُهَا ... يَا أَرْجَحَ النَّاسِ حِلْمًا حِينَ يُخْتَبَرُ
امْنُنْ عَلَى نِسْوَةٍ قَدْ كُنْتَ تَرْضَعُهَا ... وَإِذْ يَزِينُكَ مَا تَأْتِي وَمَا تَذَرُ
لَا تَجْعَلَنَّا كَمَنْ شَالَتْ نَعَامَتُهُ ... فَاسْتَبِقِ مِنَّا فَإِنَّا مَعْشَرٌ زُهَرُ
إِنَّا لَنَشْكُرُ لِلنَّعْمَاءِ إِذْ كُفِرَتْ ... وَعِنْدَنَا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ مُدَّخَرُ
فَأَلْبِسِ الْعَفْوَ مَنْ قَدْ كُنْتَ تَرْضَعُهُ ... مِنْ أُمَّهَاتِكَ إِنَّ الْعَفْوَ مُشْتَهَرُ
يَا خَيْرَ مَنْ مَرَحَتْ كَمْتُ الْجِيَادِ بِهِ ... عِنْدَ الْهَيَّاجِ إِذَا مَا اسْتَوْقَدَ الشَّرَرُ
إِنَّا نُؤمِّلُ عَفْوًا مِنْكَ نَلْبَسُهُ ... هَادِي الْبَرِيَّةِ إِذْ تَعْفُو وَتَنْتَصِرُ
فَاعْفُ عَفَا اللهُ عَمَّا أَنْتَ رَاهِبُهُ ... يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذْ يَهْدِي لَكَ الظُّفَرُ
فَلَمَّا سَمِعَ هَذَا الشَّعْرَ قَالَ: «مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ» وَقَالَتْ قُرَيْشٌ: مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِابوجَرول زہیر بن صرد جُشَمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نے حنین کے دن، یعنی ہوازن کے دن، ہمیں قیدی بنایا اور نوجوانوں اور قیدیوں کو تقسیم کرنے لگے تو میں نے آپ ﷺ کو یہ اشعار سنائے: ”اے اللہ کے رسول! ہم پر اپنی سخاوت سے احسان فرمائیے، کیونکہ آپ ہی وہ ذات ہیں جس سے ہم امید رکھتے اور جس کے منتظر ہیں۔ اس جماعت پر احسان کیجیے جسے تقدیر نے روک لیا ہے، جس کا شیرازہ زمانے کے حوادث نے بکھیر دیا ہے۔ زمانے نے ہمیں ہمیشہ کے لیے غم پر آہ و بکا کرنے والا بنا دیا ہے، ان کے دلوں پر گہرا غم اور اندوہ طاری ہے۔ اگر آپ اپنی نعمتوں سے انہیں سہارا نہ دیں گے تو، اے وہ شخص جو آزمائش کے وقت لوگوں میں سب سے زیادہ بردبار ہے! ان عورتوں پر احسان کیجیے جنہوں نے آپ کو دودھ پلایا تھا، جبکہ آپ کا ہر کام اور ہر ترکِ عمل آپ کو زیب دیتا تھا۔ ہمیں اس شخص کی طرح نہ بنائیے جس کا نصیب اڑ گیا، ہمیں باقی رہنے دیجیے، کیونکہ ہم معزز اور شریف لوگ ہیں۔ جب نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے تو ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں، اور آج کے بعد ہمارے پاس (شکرگزاری کا جذبہ) محفوظ رہے گا۔ جن سے آپ نے اپنی رضاعی ماؤں کا دودھ پیا، انہیں عفو و درگزر کا لباس پہنائیے، بےشک عفو و درگزر ایک مشہور و معروف صفت ہے۔ اے اس شخص جو ان تمام لوگوں میں سب سے بہتر ہے جن پر جنگ کے وقت، جب چنگاریاں بھڑک اٹھیں، تیز رفتار گھوڑے اتراتے ہوئے چلتے ہیں۔ ہم آپ کی طرف سے معافی کی امید رکھتے ہیں جسے ہم اوڑھ لیں، اے مخلوق کے رہنما! جب آپ معاف کریں اور مدد فرمائیں۔ پس معاف فرما دیجیے، اللہ بھی اس چیز کو معاف فرما دے جس سے آپ ڈرتے ہیں، قیامت کے دن جب فتح آپ کی طرف رہنمائی کرے گی۔“ جب آپ ﷺ نے یہ اشعار سنے تو فرمایا: ”جو میرا اور بنو عبدالمطلب کا حصہ ہے وہ تمہارا ہے۔“ قریش نے کہا: جو ہمارا حصہ ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ اور انصار نے بھی کہا: جو ہمارا حصہ ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔