حدیث نمبر: 4650
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِيسَى التَّنُوخِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ الْقَزَّازُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: «انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى إِنْسَانٍ قَدْ رَأَيْنَا شَأْنَهُ» قَالَ: فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ، حَتَّى دَخَلُوا بَيْنَ حَائِطَيْنِ فِي زُقَاقٍ طَوِيلٍ، فَانْتَهَوْا إِلَى بَابٍ صَغِيرٍ فِي أَقْصَى الزُّقَاقِ، فَدَخَلُوا إِلَى دَارٍ، فَلَمْ يَرَوْا فِي الدَّارِ أَحَدًا غَيْرَ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ، وَإِذَا قِرْبَةٌ عَظِيمَةٌ مَلْأَى مَاءً، فَقَالُوا: نَرَى قِرْبَةً وَلَا نَرَى حَامِلَهَا كَلِّمُوا الْمَرْأَةَ، فَأَشَارَتِ إِلَى قَطِيفَةٍ فِي نَاحِيَةِ الدَّارِ، فَقَالَتِ: انْظُرُوا إِلَى مَا تَحْتَ الْقَطِيفَةِ، فَكَشَفُوها فَإِذَا تَحْتَهَا إِنْسَانٌ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَاهَ الْوَجْهُ» فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ لِمَ تَفَحَّشُ عَلَيَّ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبْأً، فَأَخْبِرْنِي مَا هُوَ؟» وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَهُ سُورَةَ الدُّخَانِ فَقَالَ: دُخٌّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْسَأْ مَا شَاءَ اللهُ كَانَ» ثُمَّ انْصَرَفَ
ترجمہ

سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک لڑکا تھا۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چلو ہم ایک ایسے شخص کے پاس چلیں جس کا معاملہ ہم نے دیکھا ہے۔“ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ پیدل روانہ ہوئے اور صحابہ آپ ﷺ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ وہ دو دیواروں کے درمیان ایک لمبی گلی میں داخل ہوئے، پھر گلی کے آخر میں ایک چھوٹے دروازے پر پہنچے، تو ایک گھر میں داخل ہوئے۔ گھر میں انہیں ایک عورت کے سوا کوئی نظر نہ آیا، اور وہاں پانی سے بھری ایک بڑی مشک رکھی تھی۔ لوگوں نے کہا: ہم مشک تو دیکھ رہے ہیں مگر اسے اٹھانے والا نظر نہیں آتا، عورت سے پوچھو۔ اس نے گھر کے ایک کونے میں پڑی چادر کی طرف اشارہ کیا اور کہا: چادر کے نیچے دیکھو۔ لوگوں نے چادر ہٹائی تو نیچے ایک انسان لیٹا ہوا تھا، اس نے سر اٹھایا تو نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تیرا منہ کالا ہو۔“ اس نے کہا: اے محمد! آپ مجھ پر اتنی سختی کیوں کر رہے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”میں نے تیرے لیے ایک چیز چھپا رکھی ہے، بتاؤ وہ کیا ہے؟“ اور صحابہ سے فرمایا: ”میں نے اس کے لیے سورۃ الدخان چھپا رکھی ہے۔“ تو اس نے کہا: دخ۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”دور ہو جا، تو ہرگز اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔“ پھر آپ ﷺ واپس تشریف لے گئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4650
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 88، حدیث 4666