❮
❯
حدیث نمبر: 4562
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ قَالَا: ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَانِي أَرْضًا، وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ أَرْضًا، وَجَاءَتِ الدُّنْيَا، فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقٍ نَخْلَةٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هِي فِي حَدِّ أَرْضِي، وَقُلْتُ أَنَا: هِي فِي حَدِّي، وَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ كَلَامٌ، فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهْتُهَا، وَنَدِمَ، فَقَالَ لِي: يَا رَبِيعَةُ رُدَّ عَلَيَّ مِثْلَهَا حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا، قُلْتُ: لَا أَفْعَلُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَتَقُولَنَّ أَوْ لَأَسْتَعْدِيَنَّ عَلَيْكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، قَالَ: وَرَفَضَ الْأَرْضَ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ أَتْلُوَهُ، فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ، فَقَالُوا: رَحِمَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ فِي أَيِّ شَيْءٍ يَسْتَعْدِي عَلَيْكَ رَسُولَ اللهِ وَهُوَ الَّذِي قَالَ لَكَ مَا قَالَ؟ فَقُلْتُ: أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ هَذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَهُوَ ثَانِي اثْنَيْنِ، هُوَ ذُو شَيْبَةَ الْمُسْلِمِينَ فَإِيَّاكُمْ، يَلْتَفِتُ فَيَرَاكُمٍ تَنْصُرُونِي عَلَيْهِ، فَيَغْضَبُ فَيَأْتِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَغْضَبُ لِغَضَبِهِ، فَيَغْضَبُ اللهُ لِغَضَبِهِمَا، فَيَهْلِكُ رَبِيعَةُ، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ارْجِعُوا، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَبِعْتُهُ وَحْدِي، وَجَعَلْتُ أَتْلُوا حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ كَمَا كَانَ، فَرَفَعَ إِلَيَّ رَأْسَهُ فَقَالَ: «يَا رَبِيعَةُ مَا لَكَ وَلِلصِّدِّيقِ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَانَ كَذَا وَكَانَ كَذَا: فَقَالَ لِي كَلِمَةً كَرِهْتُهَا، فَقَالَ لِي: قُلْ كَمَا قُلْتُ لَكَ حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَلْ فَلَا تُرَدَّ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ قُلْ غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ» قَالَ: فَوَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَحْمَةُ اللهِ وَهُوَ يَبْكِي
ترجمہ

ابوعمران جونی رحمہ اللہ سیدنا ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، آپ ﷺ نے مجھے ایک زمین عطا فرمائی، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی ایک زمین عطا فرمائی، پھر دنیا آ گئی، تو ہمارا کھجور کے ایک خوشے کے بارے میں اختلاف ہو گیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میری زمین کی حد میں ہے، اور میں نے کہا: یہ میری حد میں ہے، اور میرے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان تکرار ہوئی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک ایسی بات کہی جو مجھے ناپسند تھی، پھر انہیں ندامت ہوئی، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے ربیعہ! تم بھی مجھے ویسی ہی بات کہو تاکہ برابری ہو جائے۔ میں نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا تم یہ بات کہو گے یا میں تمہارے خلاف رسول اللہ ﷺ سے دادرسی طلب کروں گا۔ میں نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا۔ راوی کہتے ہیں: اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ زمین چھوڑ دی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی طرف روانہ ہوئے، تو میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا، پھر بنو اسلم میں سے کچھ لوگ آئے اور کہا: اللہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، وہ تمہارے خلاف رسول اللہ ﷺ سے کس بات پر دادرسی مانگیں گے جبکہ وہی تو ہیں جنہوں نے تمہیں وہ بات کہی جو کہی؟ تو میں نے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے یہ کون ہیں؟ یہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، یہ دو میں سے دوسرے ہیں، یہ مسلمانوں کے بزرگ ہیں، پس ہوشیار رہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ مڑ کر دیکھیں اور تمہیں میری مدد کرتا پائیں تو ناراض ہو جائیں، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس جائیں، تو آپ ﷺ ان کی ناراضگی پر ناراض ہوں، تو اللہ ان دونوں کی ناراضگی پر ناراض ہو جائے، تو ربیعہ ہلاک ہو جائے۔ انہوں نے کہا: تو تم ہمیں کیا حکم دیتے ہو؟ میں نے کہا: واپس چلے جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی طرف روانہ ہوئے، اور میں اکیلا ان کے پیچھے چلا اور ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا یہاں تک کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے، تو انہوں نے آپ ﷺ کو پوری بات بتائی جیسی وہ تھی، تو آپ ﷺ نے میری طرف اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”اے ربیعہ! تمہیں صدیق سے کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا اور ایسا ہوا: انہوں نے مجھے ایک ایسی بات کہی جو مجھے ناپسند تھی، تو انہوں نے مجھ سے کہا: تم بھی مجھے ویسی ہی بات کہو جیسی میں نے تم سے کہی، تاکہ برابری ہو جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن اسے جواب مت دو، بلکہ کہو: اللہ تمہیں بخشے، اے ابوبکر! اللہ تمہیں بخشے، اے ابوبکر!“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے واپس چلے گئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4562
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 58، حدیث 4577