المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ربيعة بن كعب الأسلمي يكنى أبا فراس باب: سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوفراس
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَوْمًا: «يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ؟» فَقُلْتُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ لَخِدْمُتُكُمْ أَحَبُّ إِلَيَّ، قَالَ: ثُمَّ أَعَادَ عَلَيَّ بَعْدَ مَرَّةٍ أُخْرَى، فَقُلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللهِ لَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ بِمَا يُصْلِحُنِي مِنِّي، فَلَئِنْ قَالَ لِي مَرَّةً أُخْرَى لَأَقُولَنَّ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ لِي: «يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ لِي: «ائْتِ فُلَانًا - لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ - فَلْيُزَوِّجُوكَ ابْنَتَهُمْ فُلَانَةَ» قَالَ: فَأَتَيْتُهُمْ فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أنْ تُزَوِّجُونِي، قَالُوا: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَذْهَبُ رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا لِحَاجَتِهِ، قَالَ: فَزَوَّجُونِي، لَمْ يَسْأَلُونِي بَيِّنَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا كَئِيبٌ، فَقَالَ لِي: «مَا لَكَ يَا رَبِيعَةُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَيْتُ قَوْمًا كِرَامًا، فَزَوَّجُونِي وَلَمْ يَسْأَلُونِي بَيِّنَةً، وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أَصْدَقُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْمَعُوا لَهُ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ» ، فَجَمَعُوا لِي وَزْنَ نَوَاتَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَتَيْتُهُمْ بِهِ، فَقَبِلُوا وَقَالُوا: كَثِيرٌ طَيِّبٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا كَئِيبٌ فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا رَبِيعَةُ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَيْتُ قَوْمًا كِرَامًا، فَقَبِلُوا وَقَالُوا: كَثِيرٌ طَيِّبٌ، وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أُولِمُ فَقَالَ: «اجْمَعُوا لَهُ فِي ثَمَنِ كَبْشٍ» ، فَجَمَعُوا لِي فِي ثَمَنِ كَبْشٍ، وَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَأُتِي بِمِكْتَلٍ فِيهِ شَعِيرٌ، فَأَتَيْتُهُمْ بِهِ، فَقَالُوا: أَمَّا الْكَبْشُ فَاكْفُونَاهُ أَنْتُمْ، وَأَمَّا الشَّعِيرُ فَنَحْنُ نَكْفِيكُمُوهُ، قَالَ: فَفَعَلُوا ذَلِكَ وَأَصْبَحْتُ، فَدَعَوْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُسیدنا ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت کرتا تھا، ایک دن آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ربیعہ! کیا تم شادی نہیں کرو گے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، آپ کی خدمت مجھے زیادہ محبوب ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے دوبارہ یہ بات دہرائی، میں نے پھر وہی کہا۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے دل میں کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں کہ میرے لیے کیا بہتر ہے، اگر آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا تو میں ضرور کہوں گا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ربیعہ! کیا تم شادی نہیں کرو گے؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”فلاں کے پاس جاؤ“ - انصار کے ایک شخص کا نام لیا - ”وہ اپنی بیٹی فلانہ کا تم سے نکاح کر دیں گے۔“ راوی کہتے ہیں: تو میں ان کے پاس گیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم میرا نکاح کر دو۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو خوش آمدید، رسول اللہ ﷺ کا قاصد اپنی ضرورت کے بغیر نہیں آتا۔ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے میرا نکاح کر دیا، مجھ سے کوئی گواہی نہیں مانگی، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس غمگین حالت میں آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ربیعہ! تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کچھ معزز لوگوں کے پاس گیا، انہوں نے میرا نکاح کر دیا اور کوئی گواہی نہیں مانگی، اور میرے پاس مہر دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے ایک کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا جمع کرو۔“ تو انہوں نے میرے لیے دو گٹھلیوں کے برابر سونا جمع کیا، میں وہ لے کر ان کے پاس گیا، تو انہوں نے قبول کر لیا اور کہا: بہت اچھا اور کافی ہے۔ تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس غمگین حالت میں آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ربیعہ! تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کچھ معزز لوگوں کے پاس گیا، انہوں نے قبول کیا اور کہا: بہت اچھا اور کافی ہے، لیکن میرے پاس ولیمہ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے ایک مینڈھے کی قیمت جمع کرو۔“ تو انہوں نے میرے لیے ایک مینڈھے کی قیمت جمع کی، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر والوں کی طرف بھیجا، تو ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں جو تھا، میں وہ ان کے پاس لے گیا، تو انہوں نے کہا: مینڈھے کا بندوبست تم خود کر لو، اور جو کا بندوبست ہم کر دیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے ایسا ہی کیا اور میں نے صبح کی، تو میں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو دعوت دی۔