المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ربيعة بن كعب الأسلمي يكنى أبا فراس باب: سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوفراس
حدیث نمبر: 4554
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ عًنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَنَامُ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ أَسْمَعْهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي يَقُولُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» الْهَوِيَّ، ثُمَّ يَقُولُ: «سُبْحَانَ رَبِّي الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» الْهَوِيَ قُلْتُ: مَا الْهَوِيُّ، فَقَالَ: «يَدْعُو سَاعَةً»ترجمہ
سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے حجرے میں سویا کرتا تھا، اور جب آپ ﷺ رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو میں آپ ﷺ کو دیر تک یہ فرماتے سنتا: ”الحمد للہ رب العالمین“، پھر دیر تک یہ فرماتے: ”سبحان ربي العظیم وبحمده۔“ میں نے پوچھا: ہَوی سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: ”کچھ دیر دعا کرنا۔“