المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رفاعة بن رافع الزرقي الأنصاري عقبي بدري باب: سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی انصاری رضی اللہ عنہ، بیعت عقبہ اور بدر میں شریک
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْذِرٍ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: " لَمَّا رَأَى إِبْلِيسُ مَا تَفْعَلُ الْمَلَائِكَةُ بِالْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ أَشْفَقَ أنْ يَخْلُصَ الْقَتْلُ إِلَيْهِ، فَتَشَبَّثَ بِهِ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ، وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهُ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ، فَوَكَزَ فِي صَدْرِ الْحَارِثِ، فَأَلْقَاهُ، ثُمَّ خَرَجَ هَارِبًا حَتَّى أَلْقَى نَفْسَهُ فِي الْبَحْرِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي أَسْأَلُكَ نَظْرَتَكَ إِيَّايَ، وَخَافَ أنْ يَخْلُصَ إِلَيْهِ الْقَتْلُ، فَأَقْبَلَ أَبُو جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ النَّاسِ لَا يَهْزِمَنَّكُمْ خُذْلَانُ سُرَاقَةَ إِيَّاكُمْ، فَإِنَّهُ كَانَ عَلَى مِيعَادٍ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يَهُولَنَّكُمْ قَتْلُ عُتْبَةَ وَشَيْبَةَ وَالْوَلِيدِ، فَإِنَّهُمْ قَدْ عَجَّلُوا، فَوَالَّلَاتِ وَالْعُزَّى لَا نَرْجِعُ حَتَّى نُقْرِنَهُمْ بِالْحِبَالِ، وَلَا أُلْفِيَنَّ رَجُلًا مِنْكُمْ قَتَلَ مِنْهُمْ رَجُلًا، وَلَكِنْ خُذُوهُمْ أَخْذًا حَتَّى تُعَرِّفُوهُمْ سُوءَ صَنِيعِهِمْ مِنْ مُفَارَقَتِهِمْ إِيَّاكُمْ، ورَغْبَتِهِمْ عَنِ اللَّاتِ وَالْعُزَّى، ثُمَّ قَالَ أَبُو جَهْلٍ مُتَمَثِّلًا:
[البحر الرجز]
مَا تَنْقِمُ الْحَرْبُ الشُّمُوسُ مِنِّي ... بَازِلُ عَامَيْنِ حَدِيثُ سِنِّي
لِمِثْلِ هَذَا وَلَدَتْنِي أُمِّي "سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب ابلیس نے دیکھا کہ فرشتے بدر کے دن مشرکین کے ساتھ کیا کر رہے ہیں تو اسے خدشہ ہوا کہ قتل اس تک بھی پہنچ جائے گا، تو حارث بن ہشام نے اسے پکڑ لیا، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ سراقہ بن مالک ہے، تو اس (ابلیس) نے حارث کے سینے پر مکا مارا اور اسے گرا دیا، پھر بھاگتا ہوا نکلا یہاں تک کہ سمندر میں اپنے آپ کو ڈال دیا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا: میں تجھ سے مجھے مہلت دینے کا سوال کرتا ہوں - اور اسے خوف تھا کہ قتل اس تک پہنچ جائے گا۔ اتنے میں ابوجہل بن ہشام آگے بڑھا اور کہا: اے لوگو! سراقہ کا تمہیں چھوڑ کر بھاگ جانا تمہیں شکست نہ دے، کیونکہ وہ محمد ﷺ سے ایک معاہدے پر تھا، اور عتبہ، شیبہ اور ولید کے قتل سے تم خوفزدہ نہ ہو، کیونکہ انہوں نے جلدبازی کی، تو لات اور عزیٰ کی قسم! ہم واپس نہیں لوٹیں گے جب تک کہ ہم انہیں رسیوں سے نہ باندھ لیں، اور میں تم میں سے کسی کو یہ ہرگز نہ پاؤں کہ اس نے ان میں سے کسی کو قتل کیا ہو، بلکہ انہیں پکڑ لو یہاں تک کہ تم انہیں ان کے برے کرتوت جتا دو کہ انہوں نے تمہیں چھوڑ دیا اور لات و عزیٰ سے بےرغبتی اختیار کی۔ پھر ابوجہل نے یہ شعر پڑھا: کڑی جنگ مجھ پر کیا اعتراض کرے گی؟
میں دو سال کا اونٹ ہوں، عمر میں تازہ
ایسے ہی کے لیے میری ماں نے مجھے جنا۔