حدیث نمبر: 4510
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا هَمَّامُ، أَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، - زَادَ أَبُو الْوَلِيدِ فِي حَدِيثِهِ: وَكَانَ رِفَاعَةُ وَمَالِكٌ أَخَوَيْنِ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ - قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ نَظَرَ حَوْلَهُ، فَإِذَا رَجُلٌ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ - وَقَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ - كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى، فَجَعَلَ يَرْمُقُ صَلَاتَهُ لَا يَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» قَالَ: وَذَكَرَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلَاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا أَدْرِي مَا عِبْتَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ، يَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَيَمْسَحُ رَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ اللهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ اللهُ لَهُ فِيهِ وَيَسَّرَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ فَيَضَعُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَيَسْتَوِي قَائِمًا حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ، وَيُقِيمَ صُلْبَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْجُدُ فَيُمَكِّنُ جَبْهَتَهُ - قَالَ هَمَّامٌ: وَرُبَّمَا قَالَ - فَيُمَكِّنُ وَجْهَهُ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَسْتَوِي قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ «فَوَصَفَ الصَّلَاةَ» هَكَذَا حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ قَالَ: «لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ حَجَّاجٍ
ترجمہ

…جب اس نے نماز مکمل کی تو آیا اور رسول اللہ ﷺ کو اور لوگوں کو سلام کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر بھی سلامتی ہو، جاؤ، دوبارہ نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ راوی کہتے ہیں: تو وہ واپس گیا اور نماز پڑھی، اور اپنی نماز پر توجہ دیتا رہا، لیکن اسے معلوم نہ ہوا کہ اس میں کیا کمی ہے، جب اس نے نماز مکمل کی تو آیا اور رسول اللہ ﷺ کو اور لوگوں کو سلام کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، دوبارہ نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ راوی کہتے ہیں: اور یہ دو یا تین بار دہرایا، تو اس شخص نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے مجھ میں کیا خرابی پائی ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ اچھی طرح وضو نہ کرے جیسا کہ اللہ نے اسے حکم دیا ہے: اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے، اور اپنے سر اور دونوں پاؤں ٹخنوں تک کا مسح کرے، پھر اللہ کی تکبیر اور حمد بیان کرے اور قرآن میں سے جو اللہ نے اسے اجازت دی اور آسان کیا وہ پڑھے، پھر تکبیر کہے اور رکوع کرے اور اپنی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھے یہاں تک کہ اس کے جوڑ اطمینان پا لیں اور ڈھیلے ہو جائیں، پھر کہے: سمع اللہ لمن حمدہ، اور سیدھا کھڑا ہو جائے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جائے اور اپنی کمر سیدھی کرے، پھر تکبیر کہے اور سجدہ کرے اور اپنی پیشانی جما دے - ہمام کہتے ہیں: اور کبھی کہتے - اپنا چہرہ زمین پر جما دے یہاں تک کہ اس کے جوڑ اطمینان پا لیں اور ڈھیلے ہو جائیں، پھر تکبیر کہے اور اپنا سر اٹھائے اور اپنی نشست پر سیدھا بیٹھ جائے اور اپنی کمر سیدھی کرے“ - اسی طرح آپ ﷺ نے نماز کی صفت بیان کی یہاں تک کہ فارغ ہوئے، پھر فرمایا: ”تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ ایسا نہ کرے۔“ - یہ الفاظ حجاج کی روایت کے ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4510
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 37، حدیث 4525