المعجم الكبير للطبراني
باب الذال— حرف ذال سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ذؤيب العنبري باب: سیدنا ذؤیب عنبری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عَطَاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُدَيْحِ بْنِ ذُؤَيْبٍ الْعَنْبَرِيُّ، بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنِي أَبِي خَالِدٌ، عَنْ أَبِيهِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ رُدَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ وَفْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِأُمِّ زُبَيْبٍ، فَأَخَذُوا زِرْبِيَّتَهَا فَلَحِقَ زُبَيْبٌ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَخَذَ الْوَفْدُ زِرْبِيَّةَ أُمِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُدُّوا عَلَيْهِ زِرْبِيَّةَ أُمِّهِ» ، فَأَخَذَ مِنَ الَّذِيِ أَخَذَ زِرْبِيَّةَ أُمِّهِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ وَسَيْفَهُ ومِنْطَقَتَهُ، ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَ زُبَيْبٍ ثُمَّ قَالَ: «بَارَكَ اللهُ فِيكَ يَا غُلَامُ وَبَارَكَ لِأُمِّكَ» . قَالَ مُوسَى بْنُ هَارُونَ: " الزِّرْبِيَّةُ: مَفْرَشٌ أَثْقَلُ مِنَ الزيلويةِ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَزَرَابِيُّ مَبْثُوثَةٌ} [الغاشية: ١٦]- يَعْنِي مَبْسُوطَةٌ -...چنانچہ انہوں نے اس کی والدہ کا قالین لے لیا، تو زبیب رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا اور عرض کیا: یا نبی اللہ! وفد نے میری ماں کا قالین لے لیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے اس کی ماں کا قالین واپس کر دو۔“ چنانچہ جس نے اس کی ماں کا قالین لیا تھا، اس سے (اضافی طور پر) ایک صاع جو، اس کی تلوار اور کمر بند بھی لے لیا گیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا کر زبیب کے سر پر پھیرا اور فرمایا: ”اے بچے! اللہ تجھ میں برکت دے اور تیری ماں کے لیے برکت دے۔“ موسیٰ بن ہارون کہتے ہیں: ”زربیہ ایک بچھونا ہے جو زیلو (چٹائی) سے زیادہ بھاری ہوتا ہے، اللہ عزوجل نے فرمایا: 'اور بچھے ہوئے نفیس بچھونے' [سورۃ الغاشیہ: 16] — یعنی بچھائے ہوئے۔“