حدیث نمبر: 3781
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جُزَيٍّ، عَنْ أَخِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ جُزَيٍّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ جِئْتُكَ لِأَسْأَلَكَ عَنْ أَشْيَاءَ، عَنْ أَحْنَاشِ الْأَرْضِ مَا تَقُولُ فِي الضَّبِّ؟، قَالَ: «لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ» ، قُلْتُ: فَإِنِّي آكُلُ مَا لَمْ تُحَرِّمْ، وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ وَرَأَيْتُ خَلْقًا رَابَنِي» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الْأَرْنَبِ؟، قَالَ: «لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ» ، قَالَ: فَإِنِّي آكُلُ مَا لَمْ تُحَرِّمْ، وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «نُبِّئْتُ أَنَّهَا تَدْمَى» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الضَّبُعِ؟ قَالَ: «وَمَنْ يَأْكُلُ الضَّبُعَ؟» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الثَّعْلَبِ؟ قَالَ: «وَمَنْ يَأْكُلُ الثَّعْلَبَ؟» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الذِّئْبِ؟، قَالَ: «ويَأْكُلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ؟»
ترجمہ

سیدنا خزیمہ بن جزی سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے پاس زمین کے بعض جانوروں کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں، گوہ کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اسے نہیں کھاتا اور نہ اسے حرام قرار دیتا ہوں۔“ میں نے عرض کیا: پھر میں تو ہر وہ چیز کھاؤں گا جسے آپ نے حرام نہیں کیا، مگر یا رسول اللہ! (اس کی کیا وجہ ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کی ایک امت ناپید ہو گئی تھی اور میں نے ایک ایسی مخلوق دیکھی جس نے مجھے شک میں ڈال دیا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! خرگوش کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اسے نہیں کھاتا اور نہ اسے حرام قرار دیتا ہوں۔“ میں نے عرض کیا: تو میں ہر وہ چیز کھاؤں گا جسے آپ نے حرام نہیں کیا، مگر یا رسول اللہ! (اس کی کیا وجہ ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے بتایا گیا ہے کہ اسے خون آتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لکڑبگھے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھلا لکڑبگھا کون کھاتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لومڑی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھلا لومڑی کون کھاتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بھیڑیے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا بھیڑیا کوئی ایسا شخص بھی کھاتا ہے جس میں کچھ بھلائی ہو؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3781
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 102، حدیث 3796