المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله خباب، عن أبيه باب: عبداللہ بن خباب کی اپنے والد سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي مَسْلَمَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْخَوَارِجِ فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ فَقَالُوا: أَنْتَ عَبْدُ اللهِ بْنُ خَبَّابٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالُوا: فَهَلْ أَنْتَ مُحَدِّثُنا عَنْ أَبِيكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَكُونُ فِتْنَةٌ، الْقَاعِدُ فِيهَا أَفْضَلُ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا أَفْضَلُ مِنَ الْمَاشِيِ، وَالْمَاشِي فِيهَا أَفْضَلُ مِنَ السَّاعِيِ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَكُنْ عَبْدَ اللهِ الْمَقْتُولَ» ، فَقَالُوا لَهُ: فَكُنْ أَنْتَ عَبْدَ اللهِ الْمَقْتُولَ، قَالَ: فَقَدَّمُوهُ إِلَى ضَفَّةِ النَّهَرِ فَضَرَبُوا عُنُقَهُ فَجَرَى دَمُهُ كَأَنَّهُ شِرَاكُ نَعْلٍ، مَا ابْذَقَرَّ ثُمَّ قَرَّبُوا أُمَّ وَلَدِهِ فَبَقَرُوها عَمَّا فِي بَطْنِهَا، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ فَارَقْتُهُمْراوی بیان کرتے ہیں: …انہوں نے کہا: ہاں۔ ان لوگوں نے کہا: کیا تم ہمیں اپنے والد سے، رسول اللہ ﷺ سے، بیان کرو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے اپنے والد کو رسول اللہ ﷺ سے یہ بیان کرتے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک فتنہ ہوگا، اس میں بیٹھا رہنے والا کھڑے ہونے والے سے افضل ہے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے افضل ہے، اور چلنے والا دوڑنے والے سے افضل ہے، پس جب ایسا ہو تو اللہ کا مقتول بندہ بن جانا۔“ ان لوگوں نے اس سے کہا: تو خود اللہ کا مقتول بندہ بن جا۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ اسے دریا کے کنارے لے گئے اور اس کی گردن ماری تو اس کا خون جوتے کے تسمے کی طرح بہا، بکھرا نہیں، پھر اس کی ام ولد کو لائے اور اس کے پیٹ میں جو تھا اسے چاک کر دیا، جب میں نے یہ دیکھا تو میں ان سے الگ ہو گیا۔