❮
❯
حدیث نمبر: 3616
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا شَيْبَانُ، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ثنا رَجُلٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ كَانَ يُجَالِسُنَا فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ، قَالَ: صَحِبْتُ أَصْحَابَ النَّهَرِ، فَكُنْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ كَرِهْتُ أَمْرَهُمْ خَشِيتُ أَنْ يَقْتُلُونِي، فَبَيْنَا أَنَا مَعَ طَائِفَةٍ مِنْهُمْ إِذْ أَتَيْنَا عَلَى قَرْيَةٍ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَرْيَةِ نَهَرٌ إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْقَرْيَةِ مُرَوَّعًا، فَقَالُوا لَهُ: كَأَنَّا رَوَّعْنَاكَ، قَالَ: أَجَلْ، قَالُوا: لَا رَوْعَ لَكَ، فَقُلْتُ: وَاللهِ يَعْرِفُوهُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، فَقَالُوا: أَنْتَ ابْنُ خَبَّابٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالُوا: هَلْ سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ حَدِيثًا تُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فِتْنَةً، فَقَالَ: «الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِيِ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِيِ، فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ فَكُنْ عَبْدَ اللهِ الْمَقْتُولَ» ، قَالَ: فَقَرَّبُوهُ إِلَى شَطِّ النَّهَرِ فَذَبَحُوهُ، فَرَأَيْتُ دَمَهُ يَسِيلُ فِي الْمَاءِ مِثْلَ الشِّرَاكِ مَا ابْذَقَرَّ قَالَ: فَأَخَذُوا أُمَّ وَلَدِهِ فَقَتَلُوها وَكَانَتْ حُبْلَى فَبَقَرُوا بَطْنَهَا، لَمْ أَصْحَبْ قَوْمًا هُمْ أَبْغَضُ إِلَيَّ صُحْبَةً مِنْهُمْ حَتَّى وَجَدْتُ خَلْوَةً فَانْفَلَتُّ
ترجمہ

عبدالقیس کے ایک شخص، جو ہمارے ساتھ جامع مسجد میں بیٹھا کرتے تھے، بیان کرتے ہیں: میں نہر والوں کے ساتھ رہا، ان میں شامل تھا، پھر مجھے ان کا معاملہ ناپسند ہوا اور مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ مجھے قتل نہ کر دیں۔ اسی دوران میں ان کی ایک جماعت کے ساتھ تھا کہ ہم ایک بستی پر پہنچے، اور ہمارے اور بستی کے درمیان ایک نہر تھی، تو بستی سے ایک آدمی خوفزدہ حالت میں نکلا، تو انہوں نے اس سے کہا: گویا ہم نے تمہیں خوفزدہ کر دیا؟ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: تمہیں کوئی خوف نہیں۔ میں نے دل میں کہا: اللہ کی قسم! وہ اسے پہچانتے ہیں اور میں نہیں پہچانتا۔ تو انہوں نے اس سے کہا: کیا تم خباب رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھی، کے بیٹے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: کیا تم نے اپنے والد سے کوئی حدیث سنی ہے جو تم ہمیں رسول اللہ ﷺ سے بیان کرو؟ اس نے کہا: ہاں، میں نے اپنے والد کو نبی کریم ﷺ سے یہ بیان کرتے سنا، انہوں نے ایک فتنے کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس میں بیٹھا رہنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہے، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہے، پس اگر وہ تمہیں پا لے تو اللہ کا مقتول بندہ بن جانا۔“ راوی کہتے ہیں: تو وہ اسے دریا کے کنارے لے گئے اور اسے ذبح کر دیا، میں نے اس کا خون پانی میں تسمے کی طرح بہتا دیکھا، بکھرا نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے اس کی ام ولد کو پکڑا اور اسے قتل کر دیا، اور وہ حاملہ تھی، تو انہوں نے اس کا پیٹ چاک کر دیا۔ میں نے کسی قوم کی رفاقت اپنے لیے اس سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں پائی جتنی ان کی، یہاں تک کہ مجھے تنہائی کا موقع ملا تو میں فرار ہو گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3616
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 59، حدیث 3629