المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله خباب، عن أبيه باب: عبداللہ بن خباب کی اپنے والد سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّابُونِيُّ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ: لَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ صَحِبْتُ قَوْمًا لَمْ أَصْحَبْ قَوْمًا أَحَبَّ إِلَيَّ صُحْبَةً مِنْهُمْ، فَسِرْنَا عَلَى شَطِّ نَهَرٍ، فَرُفِعَ لَنَا مَسْجِدٌ فَإِذَا فِيهِ رَجُلٌ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى نَوَاصِي الْخَيْلِ خَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ، فَقَالَ لَهُ أَمِيرُنَا: لِمَ تُرَعُ؟ فَقَالَ: قَدْ رُعْتُمُونِي قَالَ: فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ خَبَّابٍ، قَالَ لَهُ أَمِيرُنَا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكَ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَحَدَّثَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فِتْنَةً «الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِيِ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِيِ، فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ فَكُنْ عَبْدَ اللهِ الْمَقْتُولَ» ، قَالَ: فَقَرَّبُوهُ إِلَى شَطِّ النَّهَرِ فَذَبَحُوهُ، فَرَأَيْتُ دَمَهُ يَسِيلُ فِي الْمَاءِ مِثْلَ الشِّرَاكِ مَا ابْذَقَرَّ قَالَ: ثُمَّ أَخَذُوا أُمَّ وَلَدِهِ فَقَتَلُوها، وَكَانَتْ حُبْلَى فَبَقَرُوا بَطْنَهَا فَلَمْ أَصْحَبْ قَوْمًا أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُمْ حَتَّى وَجَدْتُ خَلْوَةً فَانْفَلَتُّ "عبدالقیس کے ایک شخص بیان کرتے ہیں: جب لوگ (گروہوں میں) بٹ گئے تو میں ایک ایسی قوم کے ساتھ ہو گیا کہ ان سے بڑھ کر کسی قوم کی رفاقت مجھے محبوب نہ تھی، ہم ایک نہر کے کنارے چلے تو ہمیں ایک مسجد دکھائی دی جس میں ایک آدمی تھا، جب اس نے گھوڑوں کی پیشانیاں دیکھیں تو گھبرا کر اپنا کپڑا گھسیٹتا ہوا نکلا، ہمارے امیر نے اس سے کہا: تم کیوں گھبرا رہے ہو؟ اس نے کہا: تم نے مجھے گھبرا دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو معلوم ہوا کہ وہ عبداللہ بن خباب ہیں۔ ہمارے امیر نے اس سے کہا: ہمیں وہ حدیث بیان کرو جو تم نے اپنے والد سے سنی، جو وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: تو اس نے اپنے والد سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فتنے کا ذکر کیا: ”اس میں بیٹھا رہنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہے، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہے، پس اگر وہ تمہیں پا لے تو اللہ کا مقتول بندہ بن جانا۔“ راوی کہتے ہیں: تو وہ اسے دریا کے کنارے لے گئے اور اسے ذبح کر دیا، میں نے اس کا خون پانی میں تسمے کی طرح بہتا دیکھا، بکھرا نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے اس کی ام ولد کو پکڑا اور اسے قتل کر دیا، اور وہ حاملہ تھی، تو انہوں نے اس کا پیٹ چاک کر دیا، پھر میں نے کسی قوم کی رفاقت اپنے لیے ان سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں پائی، یہاں تک کہ مجھے تنہائی کا موقع ملا تو میں فرار ہو گیا۔