حدیث نمبر: 3069
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ فَأَعْطَاهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ مِائَةً فَأَعْطَاهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا حَكِيمُ بْنَ حِزَامٍ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ» .
ترجمہ

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سو اونٹ مانگے تو آپ ﷺ نے انہیں دیے، پھر انہوں نے مزید سو مانگے تو آپ ﷺ نے وہ بھی دیے، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے حکیم بن حزام! یہ مال ایک سرسبز، میٹھا پھل ہے، جو اسے دل کی فراخی سے لے اس کے لیے اس میں برکت ڈالی جاتی ہے، اور جو اسے حرص سے لے اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور خرچ کرنے میں اپنے زیرِ کفالت لوگوں سے شروع کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3069
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 190، حدیث 3082