حدیث نمبر: 3068
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَا: ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَالِ فَأَلْحَحْتُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، فَقَالَ: «مَا أَنْكَرَ مَسْأَلَتَكَ يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَإِنَّهَا أَوْسَاخُ أَيْدِي النَّاسِ، فَمَنْ أَخَذَهَا بِسَخَاوَةٍ بُورِكَ لَهُ فِيهَا، وَمَنْ أَخَذَهَا بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالْآكِلِ وَلَا يَشْبَعُ، يَدُ اللهِ فَوْقَ يَدِ الْمُعْطِي، وَيَدُ الْمُعْطِي فَوْقَ يَدِ الْمُعْطَى، وَيَدُ الْمُعْطَى أَسْفَلُ الْأَيْدِي»
ترجمہ

سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر، حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے مال کا سوال کیا اور اصرار کیا، تو آپ نے مجھے دیا، پھر میں نے سوال کیا تو آپ نے مجھے دیا، پھر فرمایا: ”اے حکیم! مجھے تمہارا سوال کرنا برا نہیں لگا، یہ مال ایک سرسبز، میٹھا پھل ہے، اور ساتھ ہی یہ لوگوں کے ہاتھوں کی میل ہے، جو اسے فراخ دلی سے لے اس کے لیے اس میں برکت ڈالی جاتی ہے، اور جو اسے حرص سے لے اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا، اللہ کا ہاتھ دینے والے کے ہاتھ سے اوپر ہے، اور دینے والے کا ہاتھ لینے والے کے ہاتھ سے اوپر ہے، اور لینے والے کا ہاتھ سب ہاتھوں سے نیچے ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3068
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 189، حدیث 3081