المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن المسيب عن حكيم بن حزام باب: سعید بن مسیب کی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ: «يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى» . فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا. «فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدْعُو حَكِيمًا إِلَى الْعَطَاءِ، فَيَأْبَى أَنْ يَقْبَلَهُ مِنْهُ» ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا، فَقَالَ عُمَرُ: «إِنِّي أُشْهِدُكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، إِنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ الَّذِي قُسِمَ لَهُ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ فَيَأْبَى أَنْ يَأْخُذَهُ» . فَلَمْ يَرْزَأْ حَكِيمٌ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا حَتَّى تُوُفِّيَ "عروہ بن زبیر اور ابن مسیب بیان کرتے ہیں کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے دیا، پھر میں نے سوال کیا تو آپ نے مجھے دیا، پھر میں نے سوال کیا تو آپ نے مجھے دیا، پھر فرمایا: ”اے حکیم! یہ مال ایک سرسبز، میٹھا پھل ہے، جو اسے دل کی فراخی سے لے اس کے لیے اس میں برکت ڈالی جاتی ہے، اور جو اسے حرص سے لے اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں آپ کے بعد دنیا سے رخصت ہونے تک کسی سے کچھ نہیں لوں گا۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ حکیم کو عطیہ دینے کے لیے بلاتے تو وہ لینے سے انکار کر دیتے، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا تاکہ انہیں دیں، تو انہوں نے کچھ بھی لینے سے انکار کر دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے مسلمانو کی جماعت! میں تمہیں حکیم بن حزام کے بارے میں گواہ بناتا ہوں، میں اسے اس کا حصہ پیش کرتا ہوں جو اسے اس مالِ غنیمت میں سے ملا ہے، مگر وہ اسے لینے سے انکار کرتا ہے۔“ چنانچہ حکیم نے رسول اللہ ﷺ کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں لیا یہاں تک کہ وفات پا گئے۔