المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن المسيب عن حكيم بن حزام باب: سعید بن مسیب کی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 3066
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُمَا سَمِعَا حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى»ترجمہ
عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے دیا، پھر میں نے سوال کیا تو آپ نے مجھے دیا، پھر فرمایا: ”یہ مال ایک سرسبز، میٹھا پھل ہے، جو اسے دل کی خوشی سے لے اس کے لیے اس میں برکت ڈالی جاتی ہے، اور جو اسے حرص سے لے اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“