حدیث نمبر: 3065
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ يَوْمَ حُنَيْنٍ عَطَاءً فَاسْتَقَلَهُ، فَزَادَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ عَطِيَّتِكَ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الْأُولَى» . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا حَكِيمُ بْنَ حِزَامٍ، إِنَّ هَذَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهَا بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ وَحُسْنِ أَكْلَةٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِاسْتِشْرَافِ نَفْسٍ وَسُوءِ أَكْلَةٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى» . قَالَ: وَمِنْكَ يَا رَسُولَ؟ قَالَ: «وَمِنِّي» . قَالَ: فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ بَعْدَكَ أَحَدًا شَيْئًا أَبَدًا " قَالَ: " فَلَمْ يَقْبَلْ دِيوَانًا وَلَا عَطَاءً حَتَّى مَاتَ، فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ عَلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنِّي أَدْعُوهُ لَحِقِّهِ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَهُوَ يَأْبَى» . فَقَالَ: إِنِّي وَاللهِ لَا أَرْزَؤُكَ وَلَا غَيْرَكَ شَيْئًا. فَمَاتَ حِينَ مَاتَ وَإِنَّهُ لِمِنْ أَكْثَرِ قُرَيْشٍ مَالًا
ترجمہ

عروہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے حنین کے دن حکیم بن حزام کو ایک عطیہ دیا، انہوں نے اسے کم سمجھا، تو آپ ﷺ نے مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے دونوں عطیوں میں سے کون سا بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پہلا۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے حکیم بن حزام! یہ مال ایک سرسبز، میٹھا پھل ہے، جو اسے دل کی فراخی اور اچھے انداز سے کھانے کے طور پر لے اس کے لیے اس میں برکت ڈالی جاتی ہے، اور جو اسے حرص اور بری نیت سے لے اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ حکیم نے عرض کیا: اور آپ سے لینا بھی ایسا ہی ہے یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے بھی۔“ حکیم نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں آپ کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں لوں گا۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ انہوں نے موت تک نہ کوئی وظیفہ قبول کیا اور نہ کوئی عطیہ۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے: ”اے اللہ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں حکیم بن حزام کو اس مال میں سے اس کا حق دینے کے لیے بلاتا ہوں مگر وہ انکار کرتے ہیں۔“ حکیم کہتے: میں اللہ کی قسم! نہ آپ سے اور نہ کسی اور سے کچھ لوں گا۔ چنانچہ وہ جب فوت ہوئے تو قریش کے سب سے زیادہ مالدار لوگوں میں سے تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3065
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 188، حدیث 3078