المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد باب: ابوطفیل عامر بن واثلہ کی سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا فُرَاتٌ الْقَزَّازُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا نَتَحَدَّثُ فِي ظِلِّ غُرْفَةٍ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا السَّاعَةَ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا، فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غُرْفَتِهِ، فَقَالَ: عَمَّ تَتَساءَلونَ؟ أَوْ عَمَّ تَتَحَدَّثُونَ؟ قُلْنَا: ذَكَرْنَا السَّاعَةَ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ قَبْلَهَا عَشْرُ آيَاتٍ: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ، وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَالدَّجَّالُ، وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَالدُّخَانُ، وَثَلَاثَةُ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ "سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے بالاخانے کے سائے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے، تو ہم نے قیامت کا ذکر کیا اور ہماری آوازیں بلند ہو گئیں، تو رسول اللہ ﷺ اپنے بالاخانے سے جھانکے اور فرمایا: ”تم کس بارے میں سوال کر رہے ہو؟ یا کس بارے میں باتیں کر رہے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: ہم نے قیامت کا ذکر کیا تو ہماری آوازیں بلند ہو گئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نہ ہو جائیں: سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دابۃ الارض کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا، دجال، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام، دھواں، اور تین جگہ زمین کا دھنسنا: مشرق میں، مغرب میں اور جزیرہ عرب میں، اور آخر میں ایک آگ جو یمن سے، عدن کی گہرائی سے نکل کر لوگوں کو حشر کی طرف ہانک لے جائے گی۔“