حدیث نمبر: 3018
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ: اطَّلَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غُرْفَةٍ، وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ، فَقَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ عَشْرُ آيَاتٍ: الدَّجَّالُ، وَالدُّخَانُ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَدَابَّةُ الْأَرْضِ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَثَلَاثَةُ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنِ أَبْيَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ، تَنْزِلُ مَعَهُمْ إِذَا نَزَلُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ إِذَا قَالُوا "
ترجمہ

سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ بالاخانے سے جھانکے، اس وقت ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دس نشانیاں نہ ہوں: دجال، دھواں، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، زمین کا جانور، یاجوج ماجوج، اور تین جگہ زمین کا دھنسنا: مشرق میں، مغرب میں، اور جزیرہ عرب میں، اور ایک آگ جو عدن ابین کی گہرائی سے نکل کر لوگوں کو حشر کی طرف ہانک لے جائے گی، جہاں وہ رات کو ٹھہریں گے وہاں وہ بھی ٹھہرے گی، اور جہاں وہ دوپہر کو آرام کریں گے وہاں وہ بھی رکے گی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3018
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 172، حدیث 3031