❮
❯
حدیث نمبر: 2982
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ يَذْكُرُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي صَاحِبُ ظَهْرٍ أُعَالِجُهُ أُسَافِرُ عَلَيْهِ وَأَكْرِيهِ، وَإِنَّهُ رُبَّمَا صَادَفَنِي هَذَا الشَّهْرُ - يَعْنِي رَمَضَانَ - وَأَنَا أَجِدُ الْقُوَّةَ وَأَنَا شَابٌّ، فَأَجِدُ أَنْ أَصُومَ يَا رَسُولَ اللهِ أَهْوَنُ عَلَيَّ مِنْ أَنْ أُؤَخِّرَهُ، فَيَكُونَ دَيْنًا عَلَيَّ، أَفَأَصُومُ يَا رَسُولَ اللهِ أَعْظَمُ لِأَجْرِي أَمْ أُفْطِرُ؟ فَقَالَ: «أَيَّ ذَلِكَ شِئْتَ يَا حَمْزَةُ»
ترجمہ

حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں سواری کے جانوروں والا ہوں، ان کی دیکھ بھال کرتا ہوں، ان پر سفر کرتا ہوں اور انہیں کرائے پر دیتا ہوں، اور بسا اوقات یہ مہینہ یعنی رمضان مجھے (سفر میں) آ لیتا ہے جبکہ میں طاقت پاتا ہوں اور جوان ہوں، اور یا رسول اللہ! میں روزہ رکھ لینا اپنے لیے اس سے زیادہ آسان پاتا ہوں کہ اسے مؤخر کروں اور یہ میرے ذمے قرض بن جائے۔ تو یا رسول اللہ! کیا میں روزہ رکھوں جو میرے اجر کے لیے زیادہ بڑا ہو، یا افطار کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حمزہ! ان میں سے جو تم چاہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2982
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 160، حدیث 2995