حدیث نمبر: 2860
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَالِحٍ الْأَسَدِيُّ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، قَالَ: " لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، احْتَزُّوا رَأْسَهُ، وَقَعَدُوا فِي أَوَّلِ مَرْحَلَةٍ يَشْرَبُونَ النَّبِيذَ يَتَحَيَّوْنَ بِالرَّأْسِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ قَلَمٌ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ حَائِطٍ، فَكَتَبَ بِسَطْرِ دَمٍ:
[البحر الوافر]
أَتَرْجُو أُمَّةٌ قَتَلَتْ حُسَيْنًا ... شَفَاعَةَ جَدِّهِ يَوْمَ الْحِسَابِ
فَهَرَبُوا وَتَرَكُوا الرَّأْسَ، ثُمَّ رَجَعُوا "
ترجمہ

ابوقبیل بیان کرتے ہیں: جب حسین بن علی رضی اللہ عنہما شہید کیے گئے تو انہوں نے ان کا سر کاٹ لیا، اور پہلی منزل پر بیٹھ کر شراب پینے لگے، سر کو ایک دوسرے کے سامنے مبارک باد کے طور پر پیش کرتے ہوئے۔ اچانک ایک دیوار سے لوہے کا قلم نکلا اور اس نے خون سے یہ شعر لکھا: ”کیا وہ امت جس نے حسین کو قتل کیا، حساب کے دن اس کے نانا کی شفاعت کی امید رکھتی ہے؟“
تو وہ بھاگ گئے اور سر وہیں چھوڑ گئے، پھر واپس آئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2860
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 123، حدیث 2873