المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه وأمه باب: سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
حدیث نمبر: 2859
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَرَ الْحُسَيْنُ مُنَادِيًا، فَنَادَى: «لَا يُقْبِلْ مَعَنَا رَجُلٌ عَلَيْهِ دَيْنٌ» . فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ امْرَأَتِي ضَمِنَتْ دَيْنِي. فَقَالَ حُسَيْنٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «وَمَا ضَمَانُ امْرَأَةٍ؟»ترجمہ
موسیٰ بن عمیر اپنے والد سے بیان کرتے ہیں: حسین نے ایک منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کرے: ”کوئی ایسا شخص جس کے ذمے قرض ہو ہمارے ساتھ نہ چلے۔“ ایک شخص نے عرض کیا: میری بیوی نے میرے قرض کی ضمانت دی ہے۔ حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورت کی ضمانت کی کیا حیثیت؟“