حدیث نمبر: 2839
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: " وُلِدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِخَمْسِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ شَعْبَانَ سَنَةَ أَرْبَعٍ مِنَ الْهِجْرَةِ، وَقُتِلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي الْمُحَرَّمِ سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ، وَقَتَلَهُ سِنَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ النَّخَعِيُّ، وأَجْهَزَ عَلَيْهِ خَوْلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَصْبَحِيُّ مِنْ حِمْيَرَ، وَحَزَّ رَأْسَهُ وَأَتَى بِهِ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ زِيَادٍ، فَقَالَ سِنَانُ بْنُ أَنَسٍ:
[البحر الرجز]
أَوْقِرْ رِكَابِي فِضَّةً وَذَهَبَا
أَنَا قَتَلْتُ الْمَلِكَ الْمُحَجَّبَا
قَتَلْتُ خَيْرَ النَّاسِ أُمًّا وَأَبَا "
ترجمہ

زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں: حسین بن علی رضی اللہ عنہ چار ہجری میں شعبان کی پانچ راتیں گزرنے پر پیدا ہوئے، اور جمعہ کے دن، دس محرم (عاشوراء) اکسٹھ ہجری میں شہید کیے گئے۔ انہیں سنان بن ابی انس نخعی نے قتل کیا، اور خولی بن یزید اصبحی، جو حمیر سے تھا، نے انہیں زخمی حالت میں تہہ تیغ کیا اور ان کا سر کاٹ کر عبیداللہ بن زیاد کے پاس لے آیا۔ اس پر سنان بن انس نے یہ اشعار کہے: ”میری سواری کو چاندی اور سونے سے لاد دو، میں نے اس محجوب بادشاہ کو قتل کیا ہے، میں نے لوگوں میں سب سے بہترین ماں باپ والے کو قتل کیا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2839
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 117، حدیث 2852