المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه وأمه باب: سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
حدیث نمبر: 2838
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَبَّاسِ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، قَالَ: مَرَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى كَعْبٍ، فَقَالَ: «يُقْتَلُ مِنْ وَلَدِ هَذَا الرَّجُلِ رَجُلٌ فِي عِصَابَةٍ، لَا يَجِفُّ عَرَقُ خُيُولِهِمْ حَتَّى يَرِدُوا عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . فَمَرَّ حَسَنٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَذَا يَا أَبَا إِسْحَاقِ؟ قَالَ: «لَا» . فَمَرَّ حُسَيْنٌ، فَقَالُوا: هَذَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»ترجمہ
عمار دُہنی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کعب (احبار) کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اس شخص (رسول اللہ ﷺ) کی اولاد میں سے ایک شخص ایک جماعت کے ساتھ قتل کیا جائے گا، جن کے گھوڑوں کا پسینہ خشک نہیں ہوگا جب تک وہ محمد ﷺ کے پاس نہ پہنچ جائیں۔“ پھر حسن رضی اللہ عنہ گزرے تو لوگوں نے پوچھا: اے ابواسحاق! کیا یہی ہیں؟ فرمایا: نہیں۔ پھر حسین گزرے تو پوچھا: کیا یہی ہیں؟ فرمایا: ہاں۔