المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه وأمه باب: سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
حدیث نمبر: 2837
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قَالَ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ أَحَسَّ بِالْقَتْلِ: «ائْتُونِي ثَوْبًا لَا يَرْغَبُ فِيهِ أَحَدٌ أَجْعَلْهُ تَحْتَ ثِيَابِي لَا أُجَرَّدُ» . فَقِيلَ لَهُ: تُبَّانٌ؟ فَقَالَ: «لَا؛ ذَلِكِ لِبَاسُ مَنْ ضُرِبَتْ عَلَيْهِ الذِّلَّةُ» . فَأَخَذَ ثَوْبًا فَمَزَّقَهُ، فَجَعَلَهُ تَحْتَ ثِيَابَهِ، فَلَمَّا أَنْ قُتِلَ جَرَّدُوهُترجمہ
ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں: جب حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو قتل کیے جانے کا احساس ہوا تو فرمایا: ”میرے پاس ایسا کپڑا لاؤ جسے کوئی پسند نہ کرے، میں اسے اپنے کپڑوں کے نیچے پہن لوں تاکہ میں برہنہ نہ کیا جاؤں۔“ ان سے عرض کیا گیا: تبان (ران ڈھانپنے والا چھوٹا کپڑا) پہن لیں؟ تو فرمایا: ”نہیں، یہ ان لوگوں کا لباس ہے جن پر ذلت مسلط کی گئی ہو۔“ چنانچہ انہوں نے ایک کپڑا لے کر پھاڑا اور اسے اپنے کپڑوں کے نیچے پہن لیا، پھر جب وہ شہید کر دیے گئے تو انہیں برہنہ کر دیا گیا۔