حدیث نمبر: 2836
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ ابْنِ وَائِلٍ أَوْ وَائِلِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ شَهِدَ مَا هُنَاكَ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَفِيكُمْ حُسَيْنٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ. فَقَالَ: أَبْشِرِ بِالنَّارِ. فَقَالَ: «أَبْشِرْ بِرَبٍّ رَحِيمٍ، وَشَفِيعٍ مُطاعٍ» . قَالَ: «مَنْ أَنْتَ؟» قَالَ: أَنَا ابْنُ جُوَيْزَةَ - أَوْ حُوَيْزَةَ. قَالَ: فَقَالَ: «اللهُمَّ حُزْهُ إِلَى النَّارِ» . فَنَفَرَتْ بِهِ الدَّابَّةُ، فَتَعَلَّقَتْ رِجْلُهُ فِي الرِّكَابِ. قَالَ: فَوَاللهِ مَا بَقِيَ عَلَيْهَا مِنْهُ إِلَّا رِجْلُهُ "
ترجمہ

ابن وائل (یا وائل بن علقمہ) — جو خود وہاں موجود تھے — بیان کرتے ہیں: ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: کیا تم میں حسین ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: جہنم کی خوشخبری سن لو۔ حسین نے فرمایا: ”تو رحیم رب اور مقبول سفارشی کی خوشخبری سن لے۔“ حسین نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں ابن جویزہ (یا حویزہ) ہوں۔ تو حسین نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے جہنم کی طرف کھینچ لے۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ اس کی سواری بدک گئی، اور اس کا پاؤں رکاب میں الجھ گیا، اللہ کی قسم! اس پر اس کے جسم میں سے صرف اس کا پاؤں ہی باقی رہ گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2836
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 116، حدیث 2849