حدیث نمبر: 21851
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِيِ، وَهُوَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، فَرَمَى سَبْعًا» ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَلَمْ يَقِفْ وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ
ترجمہ

سیدہ ام جندب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ قربانی کے دن وادی کے نچلے حصے سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار رہے تھے، اور فرما رہے تھے: ”اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، اور چھوٹی کنکری کے برابر کنکریاں مارو۔“ آپ ﷺ نے سات کنکریاں ماریں، پھر روانہ ہو گئے اور رکے نہیں، اور آپ ﷺ کے پیچھے ایک شخص تھا جو آپ ﷺ کو لوگوں سے بچا رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21851
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 161، حدیث 389