المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم جندب الأزدية باب: سیدہ ام جندب ازدیہ رضی اللہ عنہا
حدیث نمبر: 21850
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابٌ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى بَغْلَتِهِ، وَرَجُلٌ خَلْفَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ، فَقِيلَ لِي: هَذَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، فَازْدَحَمَ عَلَيْهِ النَّاسُ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمُ الْجِمَارَ، فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، ثُمَّ اسْتَبْطَنَ الْوَادِي، وَاسْتَعْرَضَ الْجَمْرَةَ، فَرَمَاهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِيِ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ انْصَرَفَ»ترجمہ
… قربانی کے دن جمرہ عقبہ کے پاس، جبکہ آپ ﷺ اپنے خچر پر سوار تھے اور ایک شخص آپ ﷺ کے پیچھے لوگوں سے آپ ﷺ کو بچا رہا تھا۔ میں نے اس شخص کے بارے میں پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں۔ لوگوں نے آپ ﷺ پر ہجوم کر دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، اور جب کنکریاں مارو تو چھوٹی کنکری کے برابر کنکریاں مارو۔“ پھر آپ ﷺ وادی کے نچلے حصے میں گئے اور جمرے کے سامنے کھڑے ہو کر وادی کے نچلے حصے سے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے رہے، پھر واپس روانہ ہو گئے۔