المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم جندب الأزدية باب: سیدہ ام جندب ازدیہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ الْكُوفِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ أُمُّ جُنْدُبٍ، قَالَتْ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ، وَهُوَ عَلَى دَابَّةٍ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَتَبِعَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ وَمَعَهَا صَبِيُّ لَهَا بِهِ بَلَاءٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ هَذَا ابْنِي وَبَقِيَّةُ أَهْلِي وَإِنَّ بِهِ بَلَاءً لَا يَتَكَلَّمُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتُونِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَضْمَضَ فَاهُ، ثُمَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ: اسْقِيهِ مِنْهُ، وَصُبِّي عَلَيْهِ مِنْهُ، فَاسْتَشْفِ اللهَ لَهُ، قَالَتْ: فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ، فَقُلْتُ: لَوْ وَهَبْتِ لِي مِنْهُ، قَالَتْ: إِنَّمَا هُوَ لِهَذَا الْمُبْتَلَى، قَالَتْ: فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ مِنَ الْحَوْلِ الْمُقْبِلِ، فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْغُلَامِ، فَقَالَتْ: بَرَأَ وَعَقَلَ عَقْلًا لَيْسَ كَعُقُولِ النَّاسِ "سیدہ ام جندب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے قربانی کے دن وادی کے نچلے حصے سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں، جبکہ آپ ﷺ سواری پر تھے، پھر واپس روانہ ہوئے۔ اتنے میں خثعم قبیلے کی ایک عورت آپ ﷺ کے پیچھے آئی جس کے ساتھ اس کا ایک بچہ تھا جسے کوئی بیماری لاحق تھی۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرا بیٹا ہے اور میرے گھر والوں میں سے باقی رہ گیا ہے، اور اسے ایک بیماری لاحق ہے کہ یہ بول نہیں سکتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس تھوڑا سا پانی لاؤ۔“ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور کلی کی، پھر وہ پانی اسے دے دیا اور فرمایا: ”اسے یہ پانی پلاؤ اور اس پر ڈالو، اور اللہ سے اس کی شفا مانگو۔“ ام جندب کہتی ہیں: پھر میں اس عورت سے ملی تو میں نے کہا: کاش تم مجھے بھی اس میں سے کچھ دے دیتیں۔ اس نے کہا: یہ تو صرف اسی مریض کے لیے ہے۔ وہ کہتی ہیں: پھر اگلے سال میں اس عورت سے ملی تو میں نے اس بچے کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا: وہ شفایاب ہو گیا اور اسے ایسی سمجھ عطا ہوئی جو عام لوگوں جیسی نہیں۔