المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم أنس الأنصارية وليست بأم أنس بن مالك باب: سیدہ ام انس انصاریہ رضی اللہ عنہا، جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ نہیں ہیں
حدیث نمبر: 21821
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَحْوَلُ، مَوْلَى مَرْوَانِ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَنَسٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: جَعَلَكَ اللهُ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ وَأَنَا مَعَكَ وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلِّمْنِي عَمَلًا صَالِحًا أَعْمَلُهُ، فَقَالَ: «أَقِيمِي الصَّلَاةَ، فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْجِهَادِ، وَاهْجُرِي الْمَعَاصِي، فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ، وَاذْكُرِي اللهَ كَثِيرًا، فَإِنَّهُ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ أَنْ تَلْقِينَهُ بِهِ»ترجمہ
سیدہ ام انس انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: اللہ آپ کو جنت کے رفیقِ اعلیٰ میں رکھے اور مجھے بھی آپ کے ساتھ، اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی نیک عمل سکھا دیجیے جسے میں کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز قائم کرو، کیونکہ یہ سب سے افضل جہاد ہے، گناہوں کو چھوڑ دو، کیونکہ یہ سب سے افضل ہجرت ہے، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، کیونکہ یہ وہ عمل ہے جو اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے کہ تم اس کے ساتھ اس سے ملو۔“