المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم أنس الأنصارية وليست بأم أنس بن مالك باب: سیدہ ام انس انصاریہ رضی اللہ عنہا، جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ نہیں ہیں
حدیث نمبر: 21820
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ أُمِّ سَعْدٍ، امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أُمِّ أَنَسٍ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَيْنِيَ تَغْلِبُنِي عَنْ عِشَاءِ الْآخِرَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَجِّلِيهَا يَا أُمَّ أَنَسٍ إِذَا مَلَأَ اللَّيْلُ بَطْنَ كُلِّ وَادٍ، فَقَدْ حَلَّ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَصَلِّي، وَلَا إِثْمَ عَلَيْكِ»ترجمہ
سیدہ ام انس انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! نیند مجھ پر عشاء کی آخری نماز میں غالب آ جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام انس! اسے جلدی پڑھ لیا کرو، جب رات ہر وادی کو بھر دے تو نماز کا وقت ہو جاتا ہے، پس نماز پڑھ لو، تم پر کوئی گناہ نہیں۔“