حدیث نمبر: 21800
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالُوا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ، وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِمْ قَدْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَجَعَلْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: رَحِمَكَ اللهُ أَبَا السَّائِبِ شَهَادَتِي عَلَيْكَ، لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا يُدْرِيكَ أَمَّا هُوَ فَقَدْ أَتَاهُ الْيَقِينُ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ وَمَا أَدْرِي مَا يَفْعَلُ اللهُ بِهِ» ، فَقُلْتُ: وَاللهِ لَا أُزَكِّي بَعْدَهُ أَحَدًا أَبَدًا فَأَخْرَسَنِي قَوْلُهُ، فَلَمَّا نِمْتُ رَأَيْتُ عَيْنًا تَجْرِي لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «ذَاكَ عَمَلُهُ»
ترجمہ

… پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے، تو میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے اے ابوسائب! میں آپ کے بارے میں گواہی دیتی ہوں، اللہ نے آپ کو ضرور عزت دی ہوگی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم؟ جہاں تک اس کا تعلق ہے، تو اسے یقین آ چکا ہے، اللہ کی قسم! مجھے اس کے لیے خیر کی امید ہے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ اللہ اس کے ساتھ کیا کرے گا۔“ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اب کبھی کسی کی گواہی نہیں دوں گی۔ تو آپ ﷺ کی بات نے مجھے خاموش کر دیا۔ پھر جب میں سوئی تو میں نے عثمان بن مظعون کے لیے ایک چشمہ بہتا ہوا دیکھا، تو میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس کا عمل ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21800
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 140، حدیث 338