المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم العلاء الأنصارية امرأة زيد بن ثابت باب: سیدہ ام علاء انصاریہ رضی اللہ عنہا، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی زوجہ
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالُوا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ، وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِمْ قَدْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَجَعَلْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: رَحِمَكَ اللهُ أَبَا السَّائِبِ شَهَادَتِي عَلَيْكَ، لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا يُدْرِيكَ أَمَّا هُوَ فَقَدْ أَتَاهُ الْيَقِينُ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ وَمَا أَدْرِي مَا يَفْعَلُ اللهُ بِهِ» ، فَقُلْتُ: وَاللهِ لَا أُزَكِّي بَعْدَهُ أَحَدًا أَبَدًا فَأَخْرَسَنِي قَوْلُهُ، فَلَمَّا نِمْتُ رَأَيْتُ عَيْنًا تَجْرِي لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «ذَاكَ عَمَلُهُ»سیدہ ام علاء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، اور وہ ان (انصار) کی عورتوں میں سے ایک تھیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے بیعت کی تھی، وہ کہتی ہیں: عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا، پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے، تو میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے اے ابوسائب! میں آپ کے بارے میں گواہی دیتی ہوں، یقیناً اللہ نے آپ کو عزت بخشی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم؟ جہاں تک اس کا تعلق ہے، تو اسے یقینی چیز (موت) آ چکی ہے، اللہ کی قسم! مجھے اس کے لیے خیر کی امید ہے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ اللہ اس کے ساتھ کیا کرے گا۔“ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اب کبھی کسی کی گواہی نہیں دوں گی۔ تو آپ ﷺ کی بات نے مجھے خاموش کر دیا۔ پھر جب میں سوئی تو میں نے عثمان بن مظعون کے لیے ایک چشمہ بہتا ہوا دیکھا، تو میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس کا عمل ہے۔“