❮
❯
حدیث نمبر: 21801
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ، قَالَتْ: " لَمَّا قَدِمَ الْمُسْلِمُونَ الْمَدِينَةَ اسْتَهَمُوا الْمَنَازِلَ فَصَارَ هَذَا يَنْزِلُ عَلَى هَذَا، وَكَانَ مِنْهُمْ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ نَزَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَاشْتَكَى فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَوَافَقَ أَنْ قَضَى، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: شَهَادَتِي عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ أَنَّ اللهَ قَدْ أَكْرَمَكَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا يُدْرِيكَ»
ترجمہ

سیدہ ام العلاء انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب مسلمان مدینہ آئے تو انہوں نے رہائش کے لیے قرعہ اندازی کی، چنانچہ ہر ایک کسی نہ کسی کے ہاں ٹھہرنے لگا۔ انہی میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ بھی تھے جو انصار کی ایک عورت کے ہاں ٹھہرے۔ وہ بیمار ہو گئے تو نبی کریم ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لاتے رہے۔ پھر اتفاق سے وہ (ابوسائب) فوت ہو گئے تو عورت نے کہا: اے ابو سائب! میری گواہی ہے تم پر کہ اللہ نے تمہیں عزت بخشی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21801
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 140، حدیث 339