المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خبر أم سليم في موت ابنها من أبي طلحة باب: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے، ابوطلحہ سے، بیٹے کی وفات کا واقعہ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ لِأَبِي طَلْحَةَ ابْنٌ مِنْ أُمَّ سُلَيْمٍ فَمَاتَ، فَقَالَتْ لِأَهْلِهَا: لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِمَوْتِ ابْنِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أُحَدِّثُهُ، قَالَ: فَجَاءَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَاءَهُ وَشَرَابَهُ فَأَكَلَ وَشَرِبَ، ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهُ أَحْسَنَ مَا كَانَتْ تَصْنَعُ قَبْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا شَبِعَ وَرَوَى وَقَعَ بِهَا، فَلَمَّا عَرَفَتْ أَنَّهُ قَدْ شَبِعَ، وَرَوَى، وَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا، قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَهْلَ بَيْتٍ أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ آخَرِينَ، فَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ أَلَهُمْ أَنْ يَحْبِسُوا عَارِيَتَهُمْ؟ قَالَ: لَا، قَالَتْ: فَاحْتَسِبِ ابْنَكَ، قَالَتْ: فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ: تَرَكْتِينِي ثُمَّ تَلَطَّخْتُ بِمَا تَلَطَّخْتُ، ثُمَّ تُحَدِّثِينِي بِمَوْتِ ابْنِي فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى أُمَّ سُلَيْمٍ صَنَعَتْ كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَارَكَ اللهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا» قَالَ: فَبَلَغَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَحَمَلَتْ، قَالَ: فَهِيَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ أَخَذَهَا الْمَخَاضُ فَاحْتَبَسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ وَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَبُّ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ، وَأَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ، فَهَذِهِ احْتَبَسَتْ بِمَا تَرَى، قَالَ: يَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا أَبَا طَلْحَةَ لَا أَجِدُ مَا كُنْتُ أَجِدُ، فَانْطَلِقْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتَّى قَدِمَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَتْ لِي أُمِّي: يَا أَنَسُ لَا يَطْعَمْ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَتُّ تِلْكَ اللَّيْلَةَ أُكَالِئُهُ مَحْنِيًّا عَلَيْهِ وَهُوَ يَبْكِي حَتَّى أَصْبَحَ، فَغَدَوْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُ بِيَدِهِ مِيسَمًا، فَلَمَّا رَأَى الصَّبِيُّ مَعِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَوَضَعَ الْمِيسَمَ وَقَعَدَ، فَأَتَيْتُهُ بِالصَّبِيِّ، فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ فَدَعَا بِعَجْوَةٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلَاكَهَا فِي فَمِهِ حَتَّى ذَابَتْ ثُمَّ لَفَظَهَا فِي فَمِ الصَّبِيِّ، فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللهِ»سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ایک بیٹا تھا، وہ فوت ہو گیا۔ تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: ابوطلحہ کو میرے بیٹے کی موت کی خبر مت دینا یہاں تک کہ میں خود انہیں بتاؤں۔ راوی کہتے ہیں: وہ آئے تو انہوں نے ان کے سامنے رات کا کھانا اور پانی پیش کیا، انہوں نے کھایا پیا، پھر انہوں نے اپنے آپ کو اس سے بہتر انداز میں سنوارا جیسا کہ وہ پہلے کیا کرتی تھیں۔ جب وہ سیر ہو کر آسودہ ہو گئے تو ان سے ہم بستری کی۔ جب انہیں یقین ہو گیا کہ وہ سیر بھی ہو چکے ہیں، پانی بھی پی چکے ہیں، اور اپنی حاجت بھی پوری کر چکے ہیں، تو انہوں نے کہا: اے ابوطلحہ! آپ کا کیا خیال ہے، اگر ایک گھر والے اپنے پڑوسیوں کو کوئی چیز عاریتاً دیں، پھر وہ اپنی عاریت طلب کریں تو کیا انہیں یہ حق ہے کہ وہ اپنی عاریت روک لیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: تو اپنے بیٹے کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں (وہ فوت ہو چکا ہے)۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ غضبناک ہوئے اور کہا: تم نے مجھے یونہی چھوڑے رکھا یہاں تک کہ میں جس حالت میں آلودہ ہوا سو ہوا، پھر اب تم مجھے میرے بیٹے کی موت کی خبر دیتی ہو؟ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے دیکھا کہ ام سلیم نے کیا کیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تم دونوں کو تمہاری باقی رات میں برکت دے۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ اسی رات وہ حاملہ ہو گئیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ اور ابوطلحہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، جب وہ مدینہ کے قریب پہنچے تو انہیں دردِ زہ شروع ہو گیا، تو ابوطلحہ ان کے پاس رک گئے اور رسول اللہ ﷺ آگے چلے گئے۔ راوی کہتے ہیں: ابوطلحہ کہنے لگے: اے میرے رب! تجھے معلوم ہے کہ مجھے یہ بات اچھی لگتی تھی کہ جب رسول اللہ ﷺ نکلیں تو میں بھی ان کے ساتھ نکلوں، اور جب وہ داخل ہوں تو میں بھی ان کے ساتھ داخل ہوں، اور اب یہ میری بیوی اس حالت کی وجہ سے رک گئی ہے جو تو دیکھ رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں: ابوطلحہ کہتے ہیں کہ ام سلیم نے کہا: اے ابوطلحہ! مجھے وہ تکلیف محسوس نہیں ہو رہی جو پہلے ہوتی تھی، آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روانہ ہو جائیں۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ وہ روانہ ہوئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ پہنچے، پھر انہیں دردِ زہ شروع ہوا اور انہوں نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ میری والدہ نے مجھ سے کہا: اے انس! اسے کچھ بھی مت کھلانا یہاں تک کہ تم اسے صبح رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے وہ ساری رات اس کی نگرانی کرتے ہوئے گزاری جبکہ وہ روتا رہا، یہاں تک کہ صبح ہوئی، تو میں اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گیا، اور میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں داغنے کا آلہ تھا۔ جب آپ ﷺ نے میرے ساتھ بچے کو دیکھا تو فرمایا: ”شاید ام سلیم نے بچہ جنا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ راوی کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے داغنے کا آلہ رکھ دیا اور بیٹھ گئے، میں بچے کو لایا اور آپ ﷺ کی گود میں رکھ دیا، تو آپ ﷺ نے مدینہ کی عجوہ کھجور منگوائی، اسے اپنے منہ میں چبایا یہاں تک کہ وہ گھل گئی، پھر اسے بچے کے منہ میں ڈال دیا، تو بچہ چٹخارے لینے لگا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دیکھو انصار کی کھجور سے محبت۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔