المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خبر أم سليم في موت ابنها من أبي طلحة باب: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے، ابوطلحہ سے، بیٹے کی وفات کا واقعہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ الْفِطْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ غُلَامًا، فَاشْتَكَى فَاشْتَدَّ شَكْوُهُ ثُمَّ تُوُفِّيَ وَأَبُو طَلْحَةَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْصَرَفَ أَبُو طَلْحَةَ مِنْ عِنْدِهِ حِينَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَقَدْ لَفَتَّهُ أُمُّ سُلَيْمٍ وَجَعَلَتْهُ فِي نَاحِيَةٍ مِنْ بَيْتِهَا، فَهَوَى إِلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَتْ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ بِحَقِّي أَنْ لَا تُقَرِّبَهُ فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ مُنْذُ اشْتَكَى خَيْرًا مِنْهُ اللَّيْلَةَ، فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ فِطْرَهُ فَأَفْطَرَ، ثُمَّ أَخَذَتْ طِيبًا فَأَصَابَتْهُ، ثُمَّ دَنَتْ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ فَأَصَابَهَا، فَقَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ لَوْ رَأَيْتَ جِيرَانًا أَعَارُوا جِيرَانًا لَهُمْ عَارِيَةً حَتَّى ظَنُّوا أَنْ قَدْ تَرَكُوهَا لَهُمْ، فَلَمَّا طَلَبُوهَا مِنْهُمْ وَجَدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ، قَالَ: بِئْسَمَا صَنَعُوا، فَقَالَتْ: فَإِنَّ اللهَ قَدْ أَعَارَكَ فُلَانًا، ثُمَّ قَبَضَهُ مِنْكَ وَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، فَغَدَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحَ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: اللهُمُّ بَارِكْ لَهُمَا فِي لَيْلَتِهِمَا، فَحَمَلَتْ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، فَوَضَعَتْهُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَقَالَتْ: لَا تُهِجْهُ، حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَتْ غَسَّلَتْهُ وَسَرَّرَتْهُ، ثُمَّ دَعَتْ أَنَسًا فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ اذْهَبْ بِأَخِيكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَنَسٌ فَأَقْبَلْتُ أَحْمِلُهُ وَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ فِي إِزَارٍ وَمَعَهُ مِسْحَاةٌ، فَقَالَ: يَا أَنَسُ مَا هَذَا مَعَكَ قُلْتُ أَخِي يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: نَاوِلْنِيهِ فَنَاوَلْتُهُ إِيَّاهُ فَدَعَا بِتَمْرٍ، فَمَضَغَهُ ثُمَّ حَنَّكَهُ فَتَلَمَّظَ الصَّبِيُّ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ»سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، وہ بیمار ہوا اور بیماری بڑھ گئی، پھر وہ فوت ہو گیا جبکہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس تھے۔ ابوطلحہ مغرب کی نماز پڑھ کر آپ ﷺ کے پاس سے واپس آئے، اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اسے کفن پہنا کر گھر کے ایک کونے میں رکھ دیا تھا۔ ابوطلحہ اس کی طرف بڑھے تو انہوں نے کہا: میں آپ کو اپنا حق دلاتی ہوں کہ اس کے قریب نہ جائیں، کیونکہ وہ جب سے بیمار ہوا ہے آج رات اس سے بہتر کبھی نہیں رہا۔ انہوں نے ان کے لیے افطاری پیش کی تو انہوں نے افطار کیا، پھر انہوں نے خوشبو لگائی اور اسے استعمال کیا، پھر ابوطلحہ کے قریب ہوئیں اور انہوں نے ان سے ہم بستری کی۔ پھر انہوں نے کہا: اے ابوطلحہ! کیا آپ نے دیکھا کہ کچھ پڑوسیوں نے اپنے پڑوسیوں کو ایک چیز عاریتاً دی یہاں تک کہ انہیں یہ خیال ہوا کہ وہ اسے انہی کے لیے چھوڑ گئے ہیں، پھر جب انہوں نے وہ چیز ان سے واپس مانگی تو انہیں برا لگا؟ انہوں نے کہا: انہوں نے برا کیا۔ تو انہوں نے کہا: اللہ نے تمہیں فلاں (بیٹا) عاریتاً دیا تھا، پھر اسے تم سے واپس لے لیا، اور وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔ صبح ہوتے ہی ابوطلحہ نبی کریم ﷺ کے پاس گئے اور انہیں سارا واقعہ بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہاری اس رات میں تم دونوں کو برکت دے۔“ چنانچہ وہ حاملہ ہو گئیں اور عبداللہ بن ابی طلحہ کو جنم دیا۔ انہوں نے رات کے آخری حصے میں اسے جنا، تو کہا: صبح ہونے تک اسے مت چھیڑنا۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے اسے غسل دیا اور اس کی نال کاٹی، پھر انس رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا: اے میرے بیٹے! اپنے بھائی کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اسے اٹھائے ہوئے آیا تو رسول اللہ ﷺ تہبند باندھے کھڑے تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ ایک کھرپی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے انس! تمہارے ساتھ یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرا بھائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے دو۔“ میں نے اسے آپ ﷺ کو دے دیا، آپ ﷺ نے کھجور منگوائی، اسے چبایا پھر بچے کو گھٹی دی، تو بچے نے چٹخارے لینے شروع کیے، رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”انصار کو کھجور سے محبت ہے۔“