حدیث نمبر: 21746
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: أَقْبَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمًا فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُقْرِئُ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ عَلَى بَطْنِهِ فَصِيلٌ مِنْ حَجَرٍ يُقِيمُ بِهِ بَطْنَهُ مِنَ الْجُوعِ، فَرَجَعَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللهِ مَا أَغَاظَنِي فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ شَيْءٌ مِنْ شَعِيرٍ، فَقَالَ لِيَ: اصْنَعِيهِ فَصَنَعْتُهُ، فَقَالَ لِيَ: اذْهَبْ فَادْعُ نَبِيَّ اللهِ وَلَا يَعْلَمْ بِكَ أَحَدٌ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: قُومُوا فَقَامَ مَعَهُ سَبْعُونَ فَأَتَيْتُ أَبَا طَلْحَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ صَنَعْنَاهُ لَكَ وَاللهِ مَا عِنْدَنَا مَا نَحْتَسِيهِمْ، فَقَالَ: " هَلُمَّ مَا عِنْدَكَ، فَأَتَيْتُهُ بِهِ وَكَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ عُكَّةُ السَّمْنِ، فَجَعَلَتْ تَعْصِرُهَا حَتَّى تَأْدُمَ بِهِ الطَّعَامَ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ: تَعَالَوْا عَشَرَةً عَشَرَةً فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ لَا يَرْعَى أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى أَحَدٍ حَتَّى ثَمِلُوا، وَأَفْضَلُوا حَتَّى أَهْدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ لِجِيرَانِهَا "
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آئے تو دیکھا کہ نبی کریم ﷺ اصحابِ صفہ کو کھڑے ہو کر قرآن پڑھا رہے ہیں، اور آپ ﷺ کے پیٹ پر بھوک کی وجہ سے پیٹ سیدھا رکھنے کے لیے ایک پتھر بندھا ہوا تھا۔ تو وہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آئے اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسی حالت دیکھی ہے جس نے مجھے سخت رنجیدہ کر دیا، کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، کچھ جَو ہے۔ انہوں نے کہا: اسے تیار کرو۔ چنانچہ میں نے اسے تیار کیا۔ پھر مجھ سے کہا: جاؤ اور نبی کریم ﷺ کو بلا لاؤ، اور کسی کو خبر نہ ہونے دینا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ نے مجھے دیکھا تو پوچھا: ”کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو۔“ تو آپ ﷺ کے ساتھ ستر آدمی کھڑے ہو گئے۔ میں ابوطلحہ کے پاس آیا اور انہیں بتایا، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ تو بس ایک چیز ہے جو ہم نے آپ کے لیے تیار کی، اللہ کی قسم! ہمارے پاس اتنا نہیں کہ انہیں کچھ پلا سکیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تمہارے پاس ہے لے آؤ۔“ چنانچہ میں وہ لے آیا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس گھی کی ایک مشک تھی، انہوں نے اسے نچوڑا یہاں تک کہ اس سے کھانے میں سالن ڈالا۔ پھر آپ ﷺ نے ہاتھ رکھا، پھر فرمایا: ”دس دس کر کے آؤ۔“ تو وہ کھانے لگے، ان میں سے کوئی دوسرے کا خیال نہ رکھتا یہاں تک کہ سب سیر ہو گئے، اور کھانا بچ گیا یہاں تک کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے پڑوسیوں کو بھی ہدیہ کیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21746
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 114، حدیث 284