المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خبر قرص أم سليم وعكتها باب: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی روٹی اور ان کے تیل کے برتن کا واقعہ
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى شِيرَانُ الرَّامَهُرْمُزِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ شَاذَانَ، ثنا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَارِكِيُّ أَبُو هَمَّامٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَذَكَرَهُ سِنَانٌ أَبُو رَبِيعَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ سُلَيْمٍ، عَمَدَتْ إِلَى مُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ، فَهَشَّتْهُ فَجَعَلَتْ مِنْهُ خَطِيفَةً وَعَصَرَتْ عُكَّةً كَانَتْ عِنْدَهَا، ثُمَّ بَعَثْتَنِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ، فَدَعَوْتُهُ فَقَالَ: وَمَنْ مَعِيَ؟ فَجِئْتُ أُمِّي، فَقُلْتُ: إِنَّهُ يَقُولُ: وَمَنْ مَعِيَ؟ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ صَنَعَتْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ لَكَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ فَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ: «أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً» ، فَدَخَلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ: «أَدْخِلْ عَشَرَةً» ، حَتَّى عَدَّ أَرْبَعِينَ، ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ هَلْ نَقَصَ مِنْهَا شَيْءٌ "سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے دو مُد جَو لیے، انہیں پیسا اور اس سے خطیفہ (دلیا) تیار کیا، اور اپنے پاس موجود ایک مشک نچوڑی۔ پھر انہوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا، میں آپ ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ ﷺ اپنے ساتھیوں کے درمیان تھے، تو میں نے آپ ﷺ کو بلایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور میرے ساتھیوں کو بھی؟“ تو میں اپنی والدہ کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ آپ ﷺ فرما رہے ہیں: میرے ساتھیوں کو بھی؟ تو رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائے، تو ابوطلحہ ان کی طرف نکلے اور کہا: یا رسول اللہ! یہ تو بس وہ چیز ہے جو ام سلیم نے آپ کے لیے بنائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مسکرائے، پھر اندر تشریف لے گئے، تو وہ کھانا لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”دس کو میرے پاس اندر لاؤ۔“ وہ اندر آئے، کھایا یہاں تک کہ سیر ہو گئے، پھر فرمایا: ”دس کو اندر لاؤ۔“ یہاں تک کہ چالیس تک گنتی کی۔ پھر نبی کریم ﷺ نے کھایا، پھر کھڑے ہو گئے، تو میں دیکھنے لگا کہ کیا اس میں سے کچھ کم ہوا ہے۔