المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خبر قرص أم سليم وعكتها باب: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی روٹی اور ان کے تیل کے برتن کا واقعہ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُصَيْنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، وَكَانَ عَمَّهُ وَزَوْجَ أُمِّهِ " أَتَى بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ، فَأَمَرَ بِهِمَا، فَصُنِعَا، ثُمَّ قَالَ لِيَ اذْهَبْ فَادْعُ لَنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَوْتُهُ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: قُومُوا فأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ، فَقَالَ: مَا فَعَلْتَ أَوْ مَا صَنَعْتَ؟ قُلْتُ: قَدْ دَعَوْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: قُومُوا، فَقَالَ: أَوَ مَا عَلِمْتَ مَا عِنْدَنَا؟ قُلْتُ: بَلَى وَلَكِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَقُولَ لِرَسُولِ اللهِ شَيْئًا فَلَمَّا انْتَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَابِ دَعَا عَشَرَةً عَشَرَةً، فَتَكَلَّمَ بِمَا شَاءَ اللهُ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: اطْعَمُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، وَدَعَا عَشَرَةً آخَرِينَ حَتَّى أَكَلَ مِنْهَا ثَمَانُونَ رَجُلًا، وَفَضَلَ مَا شَبِعَ مِنْهُ أَهْلُ الْبَيْتِ "سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ، جو ان کے چچا اور ان کی والدہ کے شوہر تھے، دو مُد جَو لائے اور انہیں تیار کروایا، پھر مجھ سے کہا: جاؤ اور رسول اللہ ﷺ کو ہمارے لیے بلا لاؤ۔ میں نے آپ ﷺ کو بلایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو۔“ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور میں آپ ﷺ کے آگے آگے چلتا رہا یہاں تک کہ ابوطلحہ کے پاس پہنچا، تو انہوں نے کہا: تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو بلا لیا ہے۔ تو ابوطلحہ نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے؟ میں نے کہا: جانتا ہوں، لیکن رسول اللہ ﷺ سے کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔ جب رسول اللہ ﷺ دروازے پر پہنچے تو آپ ﷺ نے دس دس آدمیوں کو بلایا، اور جو اللہ نے چاہا فرمایا، پھر لوگوں سے کہا: ”کھاؤ۔“ تو وہ کھا کر سیر ہو کر نکل گئے، پھر دس اور بلائے، یہاں تک کہ اسّی آدمیوں نے اس میں سے کھایا، اور گھر والوں کے لیے بھی کھانا سیر ہونے کے بعد بچ گیا۔