المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
هند بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف أم معاوية من أخبارها باب: سیدہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس بن عبد مناف رضی اللہ عنہا، ام معاویہ، ان کے احوال میں سے
حدیث نمبر: 21638
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ هِنْدًا أُمَّ مُعَاوِيَةَ: جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَإِنَّهُ لَا يُعْطِينِي وَوَلَدِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ، وَهُوَ لَا يَعْلَمُ فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَبَنِيكِ بِالْمَعْرُوفِ»ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ہند ام معاویہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوسفیان بخیل آدمی ہے، اور وہ مجھے اور میرے بیٹے کو اتنا نہیں دیتا سوائے اس کے جو میں اس سے لے لیتی ہوں اور اسے پتہ نہیں چلتا، تو کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو تمہیں اور تمہارے بیٹوں کو کافی ہو، دستور کے مطابق لے لو۔“