المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
هند بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف أم معاوية من أخبارها باب: سیدہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس بن عبد مناف رضی اللہ عنہا، ام معاویہ، ان کے احوال میں سے
حدیث نمبر: 21637
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلَا يُعْطِينِي وَوَلَدِي مَا يَكْفِينِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ فَقَالَ: «خُذِي لَكِ وَلِوَلَدِكَ مَا يَكْفِيكِ بِالْمَعْرُوفِ»ترجمہ
… (عائشہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں: ہند نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: ابوسفیان بخیل آدمی ہے، اور وہ مجھے اور میرے بیٹے کو اتنا نہیں دیتا جتنا مجھے کافی ہو، سوائے اس کے جو میں اس کے مال سے لے لوں، اور اسے پتہ نہیں چلتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے اور تمہارے بیٹے کے لیے جو کافی ہو، دستور کے مطابق لے لو۔“