المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
هند بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف أم معاوية من أخبارها باب: سیدہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس بن عبد مناف رضی اللہ عنہا، ام معاویہ، ان کے احوال میں سے
حدیث نمبر: 21636
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ هِنْدًا أُمَّ مُعَاوِيَةَ، جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَإِنَّهُ لَا يُعْطِي وَلَدِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ؟ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَبَنِيكِ بِالْمَعْرُوفِ»ترجمہ
… (سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نے) کہا: یا رسول اللہ! ابوسفیان بخیل آدمی ہے، اور وہ میرے بیٹے کو اتنا نہیں دیتا سوائے اس کے جو میں اس سے لے لیتی ہوں اور اسے پتہ نہیں چلتا، تو کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو تمہیں اور تمہارے بیٹوں کو کافی ہو، دستور کے مطابق لے لو۔“