المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
هند بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف أم معاوية من أخبارها باب: سیدہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس بن عبد مناف رضی اللہ عنہا، ام معاویہ، ان کے احوال میں سے
حدیث نمبر: 21635
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ أُمُّ مُعَاوِيَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ، وَهُوَ لَا يَعْلَمُ فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ حَرَجٌ؟ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَبَنِيكِ بِالْمَعْرُوفِ»ترجمہ
… (سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نے) کہا: ابوسفیان بخیل آدمی ہے، اور وہ مجھے اور میرے بچوں کو اتنا نہیں دیتا جتنا مجھے کافی ہو، سوائے اس کے جو میں اس سے چپکے سے لے لیتی ہوں، اور اسے پتہ نہیں چلتا، تو کیا اس میں مجھ پر کوئی حرج ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو تمہیں اور تمہارے بیٹوں کو کافی ہو، دستور کے مطابق لے لو۔“