❮
❯
حدیث نمبر: 21634
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ مِنْ أَنْ يُذِلَّهُمُ اللهُ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، وَمَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ الْيَوْمَ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يُعِزَّهُمُ اللهُ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ. قَالَ مَعْمَرٌ: يَعْنِي لَيَزْدَادَنَّ ثُمَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ، أَنْ أُمْسِكَ عَلَى عِيَالِهِ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُنْفِقِي عَلَيْهِمْ بِالْمَعْرُوفِ»
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ هِنْدًا أُمَّ مُعَاوِيَةَ، جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَإِنَّهُ لَا يُعْطِينِي وَوَلَدِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ؟ قَالَ: «خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَبَنِيكِ بِالْمَعْرُوفِ»
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَتْ هِنْدٌ أُمُّ مُعَاوِيَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ سِرًّا؟ قَالَ: «خُذِي أَنْتِ وَبَنِيكِ مَا يَكْفِيكِ بِالْمَعْرُوفِ»
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہند رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم، روئے زمین پر کوئی گھرانہ مجھے اس سے زیادہ محبوب نہیں تھا کہ اللہ اسے ذلیل کر دے، جتنا آپ کا گھرانہ، اور آج روئے زمین پر کوئی گھرانہ مجھے اس سے زیادہ محبوب نہیں کہ اللہ اسے عزت دے، جتنا آپ کا گھرانہ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اور بھی (بڑھے گی)۔“ معمر کہتے ہیں: یعنی مزید بڑھے گی۔ پھر انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوسفیان بخیل آدمی ہے، تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے اگر میں اس کی اجازت کے بغیر اس کے اہل و عیال کے لیے اس کے مال سے کچھ روک لوں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے کوئی حرج نہیں کہ تم دستور کے مطابق ان پر خرچ کرو۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ہند ام معاویہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: ابوسفیان بخیل آدمی ہے، اور وہ مجھے اور میرے بچوں کو (کافی) نہیں دیتا، سوائے اس کے جو میں اس سے لے لیتی ہوں اور اسے پتہ نہیں چلتا، تو کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تمہیں اور تمہارے بیٹوں کو کافی ہو، دستور کے مطابق لے لو۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: سیدہ ہند ام معاویہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! ابوسفیان بخیل آدمی ہے، تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے کہ میں اس کے مال میں سے چپکے سے کچھ لے لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اور تمہارے بیٹے، جو تمہیں کافی ہو، دستور کے مطابق لے لو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21634
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 71، حدیث 171