حدیث نمبر: 21397
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ زَمَانَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ صَلَاةِ الضُّحَى، هَلْ صَلَّاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا يَزْعُمُ أَنَّهُ رَآهُ فَعَلَ ذَلِكَ إِلَّا أُمَّ هَانِئٍ، فَإِنَّهَا زَعَمَتْ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ وَهِيَ عِنْدَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَأَفَاضَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ لَمْ نَرَهُ صَلَّاهَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ»
ترجمہ

… میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں چاشت کی نماز کے بارے میں پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ پڑھی؟ تو مجھے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سوا کوئی ایسا نہ ملا جو یہ دعویٰ کرے کہ اس نے آپ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہو، انہوں نے یہ بتایا کہ ”رسول اللہ ﷺ فتحِ مکہ کے دن، جمعہ کے دن، فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، جبکہ ام ہانی بھی ان کے پاس تھیں، تو ان پر پانی بہایا گیا، پھر آپ ﷺ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں، ہم نے آپ ﷺ کو نہ اس سے پہلے یہ نماز پڑھتے دیکھا نہ بعد میں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21397
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 423، حدیث 1029