المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبد الله بن الحارث بن نوفل، عن أم هانئ باب: عبداللہ بن حارث بن نوفل کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21396
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَى أَنْ أَجِدَ أَحَدًا يُخْبِرُنِي: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى، فَلَمْ أَجِدُ أَحَدًا حَدَّثَنِي غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ: أَخْبَرَتْنِي: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَعْدَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَأَمَرَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ لَا أَدْرِي قِيَامُهُ أَطْوَلُ أَمْ رُكُوعِهِ أَمْ سُجُودِهِ، كُلُّ ذَلِكَ مُتَقَارِبٌ فَلَمْ أَرَهُ سَبَّحَهَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ»ترجمہ
… میں نے پوچھا اور اس بات کا بہت خواہاں رہا کہ کوئی ایسا شخص ملے جو مجھے بتائے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاشت کی نفل نماز پڑھی، مگر ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کے سوا کسی نے مجھے یہ حدیث نہ سنائی: انہوں نے مجھے بتایا کہ ”رسول اللہ ﷺ فتحِ مکہ کے دن دن چڑھنے کے بعد تشریف لائے، تو ایک کپڑا منگوا کر پردہ کیا گیا، آپ ﷺ نے غسل کیا، پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں، مجھے معلوم نہیں کہ ان میں قیام زیادہ لمبا تھا یا رکوع یا سجدہ، سب برابر تھے، اور میں نے آپ ﷺ کو نہ اس سے پہلے یہ نماز پڑھتے دیکھا نہ بعد میں۔“