حدیث نمبر: 21398
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: أَدْرَكْتُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُمْ عَنْ صَلَاةِ الضُّحَى، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُحَدِّثُنِي، عَنْهَا حَتَّى أَتَيْتُ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: «أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ بِمَكَّةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَدَعَا بِغَرْفَةٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهَا، ثُمَّ اغْتَسَلَ، وَسَتَرَتْهُ فَاطِمَةُ فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا»
ترجمہ

… میں نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کو پایا، تو ان سے چاشت کی نماز کے بارے میں پوچھا، مگر مجھے کوئی ایسا نہ ملا جو مجھے اس کے بارے میں بتائے، یہاں تک کہ میں ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ مکہ میں جمعہ کے دن فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے، تو ایک چلو پانی منگوایا اور اسے ڈالا، پھر غسل کیا، اور فاطمہ نے آپ کو پردہ کیا، تو آپ ﷺ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں، نہ اس سے پہلے کبھی پڑھیں نہ بعد میں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21398
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 424، حدیث 1030