المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب الضاد — ما أسندت ضباعة باب: الضاد — سیدہ ضباعہ رضی اللہ عنہا کی مرویات
حدیث نمبر: 21214
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْياطِيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهَا: كَانَتْ فِي بَيْتِهَا شَاةٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ أَطْعِمِينَا مِنْ شَاتِكُمْ» فَقَالَتْ لِلرَّسُولِ: مَا بَقِيَ عِنْدَنَا إِلَّا الرَّقَبَةُ، وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أُرْسِلَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعَ الرَّسُولُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: " ارْجِعْ إِلَيْهَا فَقُلْ لَهَا: أَرْسِلِي بِهَا فَإِنَّهَا هَادِيَةُ الشَّاةِ، وَأَقْرَبُ الشَّاةِ إِلَى الْخَيْرِ وَأَبْعَدُهَا مِنَ الْأَذَى "ترجمہ
سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے گھر میں ایک بکری تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف پیغام بھیجا: ”ہمیں اپنی بکری میں سے کچھ کھلاؤ۔“ انہوں نے قاصد سے کہا: ہمارے پاس صرف گردن باقی ہے، اور مجھے شرم آتی ہے کہ میں وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیج دوں، تو قاصد آپ ﷺ کے پاس واپس آیا اور آپ کو خبر دی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے کہو: وہی بھیج دو، کیونکہ وہ بکری کے جسم کی رہنما (سب سے آگے کی) چیز ہے، اور بکری کا وہ حصہ ہے جو خیر کے سب سے قریب اور نقصان سے سب سے دور ہے۔“